Islam is a complete system of life.
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱
ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اردگرد کی دنیا پر مسلسل طور پر غور کرتے ہیں۔ وہ خدا کی تخلیق میں خدا کی نشانیاں (signs) دریافت کرتے رہتے ہیں۔ ان کا بیدار ذہن فطرت (nature) کے ہر تجربہ میں معرفت کے آئٹم کو دریافت کرتا رہتا ہے۔ ان انکشافات کے درمیان اُن کو مسلسل طور پر تخلیق کی معنویت دریافت ہوتی رہتی ہے۔ اس ذہنی عمل (intellectual process) کے نتیجہ میں ان کے اندر وہ ترقی یافتہ شخصیت بن جاتی ہے جس کو قرآن میں مزکی شخصیت کہا گیا ہے ہے(طہ 76)۔ مثال کے طور پر دن کی سرگرمیوں سے فارغ ہو کر آپ اپنے بستر پر لیٹے۔ اس وقت آپ کے اندر محاسبہ (introspection) کا عمل جاگ اٹھا۔ آپ اپنے گزرے ہوئے دن پر سوچنے لگے۔ آپ نے دریافت کیا کہ آج کے دن آپ نے کیا صحیح کیا اور کیا غلط کیا۔ اب صحیح کام پر آپ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور غلط کام پر آپ کے اندر ندامت (repentance) کا جذبہ جاگ اٹھا۔ رات کی نماز ادا کرنے کے بعد بستر پر جانے سے پہلے آپ نے اللہ سے معافی مانگی اور یہ عہد کیا کہ آئندہ ایسی غلطی نہیں دہرائیں گے۔
اس طرح سوچتے ہوئے آپ سو گئے۔ پھر آپ صبح کو اٹھے اور فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اپنے آفس گئے۔ یہاں آپ پر مختلف قسم کے تجربات گزرے۔ ہر تجربہ میں آپ کو کوئی ربانی غذاملی۔ مثلاً آپ نے کسی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی۔ بعید مواصلات (distant communication) کے اس تجربہ کے دوران آپ نے دریافت کیا کہ اللہ نے مادہ (matter) کو انسان کے لئے اس طرح مسخر کر دیا ہے کہ مادہ انسان کے حکم پر اس کے تمام کام انجام دے۔ اس کے بعد آپ اپنے کمرہ سے باہر نکلے اور اپنے گھر کے بیرونی حصہ میں بیٹھ گئے۔ یہاں آپ نے دیکھا کہ سورج بلند ہو کر اپنی روشنی آپ تک پہنچار ہا ہے۔ ہوائیں آپ کو آکسیجن سپلائی کررہی ہیں۔ بادل سمندر کے نمکین پانی کو ڈی سالینیٹ (desalinate) کر کے آپ کو میٹھا پانی پہنچارہے ہیں۔ زمین کی مٹی (soil) آپ کے لئے مختلف خوراک اگارہی ہے، وغیرہ۔ اس منظر کو دیکھ کر آپ کا ذہن ٹریگر (trigger) ہوا۔ آپ مزید سوچنے لگے کہ روڈ پر کاریں