Al-Risala · May 2017 · page 20

Islam is a complete system of life.

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰

اس قسم کی تعبیر بظاہر اسلام کی جامع تعبیر ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ وہ اسلام کی ایک ناقص تعبیر ہے۔ اس تعبیر کے مطابق اسلام صرف ایک قسم کا مینول بن جاتا ہے۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ جامع ہو وہ انسان کے صرف جزئی پہلو کا احاطہ (cover) کرے گا۔ مینول خواہ کتنا ہی زیادہ کامل ہو وہ روبوٹ (robot) کے لئے کامل ہوسکتا ہے۔ انسان ایک فکری حیوان (thinking animal) ہے۔ کوئی بھی مینول انسان کے صرف فزیکل پہلو (physical aspect) کو کور (cover) کرتا ہے، وہ انسان کے عظیم تر انٹلیکچول پہلو (intellectual aspect) کا احاطہ نہیں کرتا۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام فزیکل معنوں میں کامل مینول نہیں ہے۔ بلکہ وہ ایک مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) کے معنی میں مکمل عمل ہے۔ اسلام یہ ہے کہ وہ آدمی کے ذہن (mind) کے لئے ایک فکری طوفان (intellectual storm) بن جائے، وہ آدمی کے اندر مسلسل تفکیری عمل (continuous thinking process) جاری کردے۔ وہ آدمی کے اندر ایسی تخلیقیت (creativity) پیدا کر دے کہ وہ ہر لمحہ معرفت کے آئٹم دریافت کرتا رہے۔ اس کی شخصیت کو مسلسل طور پر ربانیت کی غذا (divine food) ملتی رہے۔ اس معاملہ کو سمجھنے کے لئے قرآن کی ان دو آیتوں کا مطالعہ کیجئے :

إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ - الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (3:190-191)۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری آنے میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ جو کھڑے اور بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر اللہ کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے رہتے ہیں۔ وہ کہہ اٹھتے ہیں اے ہمارے رب، تو نے یہ سب بے مقصد نہیں بنایا۔ تو پاک ہے، پس ہم کو آگ کے عذاب سے بچا۔

قرآن کے اس بیان کے مطابق اہل ایمان اولو الالباب (people of understanding)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page