علوم کی معرفت
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۶
علوم کی معرفت
ایک مشہور عالم کی تقریر مدارس کے طلبہ کے سامنے ہوئی۔ اس میں انھوں نے طلبہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: علوم کے سرے پکڑیے۔ ان کی تقریر میں تعینات کی زبان میں یہ واضح نہیں تھا کہ علوم کے سرے کا مطلب کیا ہے۔ بظاہر یہ ایک خطابت (rhetoric) ہے، نہ کوئی واضح رہنمائی۔ حقیقت یہ ہے کہ اصل بات علوم کے سرے پکڑنے کی نہیں ہے، بلکہ علوم کی معرفت حاصل کرنے کی ہے۔ کسی شعبہ علم کی معلومات حاصل کرنا آسان ہے۔ لیکن اس کی گہری معرفت ایک مشکل کام ہے۔ معلومات متعلق کتابوں کے حوالے سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ لیکن معرفت کے لیے ضروری ہے کہ اس پر غیر متعصبانہ انداز میں غور کیا جائے، اور کھلے انداز میں رائے قائم کی جائے۔ علم کی معرفت کے معاملے میں سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ہر علم میں مختلف قسم کے پہلو شامل رہتے ہیں۔ اس لیے کسی علم کے بارے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی کے اندر معلومات کو سارٹ آؤٹ (sort out) کرنے کی صلاحیت ہو۔ وہ متفرق چیزوں کو سارٹ آؤٹ کرکے متعلق (relevant) کو غیر متعلق (irrelevant) سے الگ کر سکے۔ اس لیے علوم کی معرفت کے معاملے میں اصل اہمیت علوم کا سرا پکڑنے کی نہیں ہے، بلکہ ضرورت یہ ہے کہ آدمی کے اندر یہ ذہن پیدا کیا جائے کہ اس کے اندر وہ صلاحیت (acute sense) آجائے کہ وہ متعلق کو غیر متعلق سے الگ کر کے دیکھ سکے۔
مثلاً انڈیا کی کسی ریاست میں الیکشن ہو، اور وہاں ایک پارٹی کی جیت ہوجائے تو اس طرح کے معاملے میں انسان کو یہ جاننا چاہیے کہ وہ کیا چیز ہے جس کی حیثیت وقتی ظاہر ہے کی ہے، اور وہ کیا چیز ہے جو بالاخر پر یویل (prevail) کرے گی، اور پھر وہ مستقل اور غیر مستقل کو ایک دوسرے سے الگ کر کے اپنی رائے قائم کرے۔
دنیا کا نظام ابدی حقائق پر مبنی ہے، نہ کہ وقتی قسم کی باتوں پر۔ اس سلسلے میں ایک درست