Al-Risala · May 2017 · page 27

let truth prevail

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷

انگریزی مقولہ ہے جس میں اسی فطری قانون کو بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ ـــــ اس دنیا میں ہمیشہ سچائی کو بقا ملتی ہے:

let truth prevail

کسی آدمی کے دانش مند ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو جانے، جو کہ ایک اٹل قانون ہے، اور کبھی بدلنے والا نہیں ہے۔ اس فطری قانون کو جاننے کے بعد جو رائے بنے گی، وہ ایک دانش مندانہ رائے ہوگی، اور اس فطری قانون کو جانے بغیر جو رائے بنے، وہ ایک سطحی رائے ہوگی۔ جو گرائمر کے اعتبار سے تو صحیح ہوسکتی ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے ایسی رائے کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔

مثال کے طور پر انڈیا جیسا ایک ملک ہو یا امریکا جیسا ایک ملک۔ دونوں جمہوریت کے زمانے کے ملک ہیں۔ دونوں میں الیکشن کے ذریعہ کوئی فرد حکومت کا عہدہ حاصل کرتا ہے۔ مگر اس عہدیدار کی کارکردگی کی مدت صرف چند سال تک محدود ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ وہ قدیم زمانے کی طرح مطلق العنان بادشاہ (despotic king) نہیں ہوتا، بلکہ وہ ایک متفقہ دستور (constitution) کا پابند ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا منتخب صدر یا وزیر اعظم خواہ بولنے کے لیے کچھ بھی بولے، لیکن عملاً جو چیز ملک میں قائم ہوگی، وہ دستور اور جمہوریت ہے، نہ کہ کسی وقتی عہدیدار کا ایک قول۔ اس طرح کے موضوعات پر جو لوگ لکھیں یا بولیں، ان کو زندگی کے اس قانون کو جاننا چاہیے، اور اسی قانون کی روشنی میں صورت حال کا جائزہ لینا چاہیے۔ اگر وہ اس محکم قانون کو جانے بغیر لکھیں یا بولیں تو ان کے لکھنے اور بولنے کی کوئی قیمت نہ ہوگی۔ ایسی بات کو جو شخص لکھے، وہ اپنے وقت کو ضائع کر رہا ہے، اور جو پڑھے، وہ بھی اپنے وقت کو ضائع کر رہا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ صرف ایسی بات لکھے یا بولے جو حقیقی معنوں میں نتیجہ خیز ہو۔ ورنہ ایسی بات لکھنے یا بولنے سے باز رہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جو حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيہ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2317)۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page