Al-Risala · May 2017 · page 28

اسلام کی عالمی اشاعت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

اسلام کی عالمی اشاعت

عن ابن عباس، قال :لما مشَوْا إلى أبي طالب وكلَّموه وهم أشراف قومه عُتبة بنُ ربيعة وشيبةُ بنُ ربيعة وأبو جهل بنُ هشام وأميةُ بنُ خلف وأبو سفيان بنُ حرب في رجال من أشرافهم فقالوا يا أبا طالب إنَّكَ منا حيث قد علِمتَ وقد حضَرَكَ ما ترى وتخوَّفنا عليك وقد علِمتَ الذي بيننا وبين ابن أخيك فادْعُہُ فخُذْ لنا منه وخُذْ له منا ليكُفَّ عنَّا ولنكُفَّ عنه وليدُعنا وديننا ولندعُه ودينه فبعثَ إليه أبو طالب فجاءه فقال يا ابن أخي هؤلاء أشراف قومِكَ قد اجتمعوا إليك ليعطوك وليأخذوا منك قال فقال رسول اللهِ صلى اللهُ عليه وسلَّم يا عَمِ كلمةً واحدةً تُعطونها تملكون بها العَرَبَ وتدينُ لَكُم بها العَجَمَ (البداية والنهاية 3/ 123)۔

کچھ لوگوں نے اس روایت کا یہ مطلب نکالا ہے کہ امت مسلمہ کا یہ نصب العین ہے کہ وہ ساری دنیا میں اسلام کی حکومت قائم کریں۔ مگر اس روایت کا سیاست اور حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس روایت میں کلمہ (word) کی بات کہی گئی ہے نہ کہ حکومت قائم کرنے کی۔ کلمہ کا مطلب وہی ہے جس کو آج کل کی زبان میں ideology کہا جاتا ہے۔ اس روایت میں کلمہ کی عالمی توسیع سے مراد یہ ہے کہ اسلام کی آئیڈیالوجی ساری دنیا تک پھیلے گی۔ کوئی قلعہ یا کوئی دیوار اس کی توسیع میں رکاوٹ نہ بن سکیں گے۔ اس بات کو ایک اور حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ليبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار، ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)۔ یعنی یہ دین ہر اس جگہ تک پہنچ کر رہے گا جہاں دن اور رات پہنچتے ہیں۔ اور اللہ کوئی چھوٹا یا بڑا گھر نہیں چھوڑے گا جہاں اس دین کو داخل نہ کر دے۔

اب وہ وقت آگیا ہے کہ دین کی عالمی اشاعت کا کام کیا جائے۔ مگر جن لوگوں نے ان احادیث کو سیاسی معنی میں لے لیا، وہ غیر ضروری طور پر دنیا سے نظری یا عملی جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page