اسلامی جہد
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰
ہے جو ہمیشہ اور ہر حال میں جاری رہتی ہے۔ اس سے مراد دعوت اور اصلاح کی جدوجہد ہے۔ دعوت عمومی دائرے میں، اور اصلاح امت مسلمہ کے دائرے میں۔ یہ پرامن جہاد ایک ایسی ضرورت ہے جو نسل درنسل جاری رہتا ہے۔ کوئی بھی صورت حال اس کو ساقط کرنے والی نہیں۔ اس کے برعکس، قتال ایک وقتی چیز ہے۔ قتال کی ضرورت ہمیشہ دفاع (defence) کے وقت پیش آتی ہے۔ جب فریق مخالف کی طرف سے قتال روک دیا جائے تو اہل اسلام کے لیے جائز نہیں کہ وہ خود سے کسی کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ اس سلسلے میں قرآن میں واضح آیتیں موجود ہیں۔ مثلاً قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (2:190)۔ یعنی اور اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو لڑتے ہیں تم سے۔ اور زیادتی نہ کرو۔ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔
اس آیت کے پہلے حصے میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ اہل اسلام صرف ان کے ساتھ جنگ کر سکتے ہیں، جو ان کے خلاف جنگ چھیڑیں۔ آیت کے دوسرے حصے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل اسلام کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ خود اپنی طرف سے جنگ کا آغاز کریں۔ جہاد بمعنی قتال کے بارے میں فقہاء کا مسلک یہ ہے کہ جہاد بمعنی قتال بذات خود مقصود نہیں ہے، بلکہ کسی اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہے۔ اس سلسلے میں یہاں تین اقوال نقل کیے جاتے ہیں:
1۔ ينقسم الجهاد في سبيل الله إلى قسمين : الأول جهاد الدعوة إلى الله بين الناس.... وهذا أعظم أنواع الجهاد، وأعظم من قام به الأنبياء والرسل، وهو جهاد حسن لذاته، وهو مقصد بعثة الأنبياء والرسل .... الثاني القتال في سبيل الله .... وهذا الجهاد حسن لغيره (موسوعة الفقه الاسلامی، محمد بن إبراهيم بن عبد الله التويجري، 50/ 449-5)۔ یعنی جہاد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، لوگوں کے درمیان دعوت الی اللہ کا جہاد .... یہ سب سے اعلیٰ درجہ کا جہاد ہے، اور انبیاء کے کاموں میں سب سے اعلیٰ کام۔ یہ جہاد بذات خود حسن ہے۔ انبیاء اور رسولوں کی بعثت کا مقصد یہی ہے .... دوسرا، قتال في سبيل اللہ