Al-Risala · May 2017 · page 31

اسلامی جہد

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱

ہے... یہ جہاد (بمعنی القتال) برائے جہاد مطلوب نہیں، بلکہ وہ ایک اور مقصد کے لیے بطور وسیلہ مطلوب ہوتا ہے۔

2۔ مسجد نبوی کے سابق مدرس عطیہ محمد سالم (وفات: 1999) لکھتے ہیں: [الجہاد وسیلة وليس غاية ... أن القتال فى الإسلام ليس غاية لذاته، ولكنه وسيلة للوصول إلى غاية (شرح الأربعين النووية، درس نمبر 85)۔ جہاد (بمعنی قتال) ایک وسیلہ ہے، وہ بذاتِ خود مقصود نہیں ہے... اسلام میں قتال بذاتِ خود مقصود نہیں ہے، بلکہ وہ ایک وسیلہ ہے، جو ایک اور مقصد کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

3۔ القتال مما يدل على أنه غير مقصود في ذاته وإنما هو مقصود لغيره (محمد بن عبد السلام الأنصاري، القتال ليس غاية الجهاد [www.assakina.com])۔ یعنی قتال شریعت میں بذاتِ خود مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ کسی اور مقصد کے لیے مطلوب ہوتا ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں: [أما حين تكون تلك الغايات يمكن التوصل إليها بغیر القتال فلا شك أنه حينئذ يعتبر الإقدام عليه غير مأمور به۔ یعنی ایسے مقاصد جن کا حصول قتال کے بغیر ممکن ہو، تو یقیناً اس وقت اقدام (جنگ) کرنا ایسا ہوگا، جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جہاد بمعنی پرامن دعوت بلا انقطاع ہر حال میں جاری رہتا ہے۔ لیکن قتال صرف اس وقت ہے جب کہ فریقِ ثانی کی جارحیت کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آجاۓ۔

* * * * * *

انسان کو استثنائی ذہن دیا گیا اور پھر اس کو آزادی عطا کی گئی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ انسان اپنے ذہن کو استعمال کرے، اور پھر وہ خود دریافت کردہ معرفت پر کھڑا ہو۔ مخلوقات سے اصل چیز جو مطلوب ہے، وہ حمد ہے۔ پوری کائنات اللہ رب العالمین کی مجبورانہ حمد کر رہی ہے۔ مگر انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے، آزادانہ طور پر خدائی سچائی کو دریافت کرے، اور کسی جبر کے بغیر اس پر کھڑا ہو۔ * * * * * *

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page