Al-Risala · May 2017 · page 33

عرب جاہلیت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳

عرب جاہلیت

عرب میں اسلام سے پہلے جو زمانہ تھا، اس کو جاہلیت کا زمانہ کہا جاتا ہے۔ جاہلیت کے لفظی معنی ہیں بے خبری (ignorance)۔ بلاشبہ یہ لوگ توحید سے بے خبر تھے، لیکن ان کے اندر اعلیٰ درجے کی انسانی صفت موجود تھی۔ واقعات بتاتے ہیں کہ عربوں میں انسانی اخلاق اور انسانی شرافت اعلیٰ درجے میں موجود تھی۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ مکی دور میں ایک بار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم صفا کے پاس تھے۔ وہاں ابو جہل (عمرو بن ہشام) آیا۔ اس نے آپ کو بہت زیادہ برا بھلا کہا۔ ایک عورت اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔ پیغمبر اسلام نے کچھ نہیں کہا، آپ خاموشی کے ساتھ وہاں سے چلے گئے۔ اس کے بعد آپ کے چچا، حمزہ بن عبد المطلب وہاں آئے۔ مذکورہ عورت نے حمزہ کو یہ قصہ بتایا، اور کہا کہ تھوڑی دیر پہلے اگر تم وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ تمھارے بھتیجے کو ابو جہل نے کتنا زیادہ برا بھلا کہا۔ حمزہ کو غصہ آگیا۔ اس وقت ان کے پاس لوہے کی کمان تھی۔ وہ ابو جہل کے پاس گیے، اور اس کو اتنے زور سے مارا کہ خون بہنے لگا۔ یہ دیکھ کر ابو جہل کے قبیلہ بنو مخزوم کے لوگ اٹھے، انھوں نے چاہا کہ حمزہ سے اپنے سردار کا انتقام لے۔ لیکن ابو جہل نے یہ کہتے ہوئے لوگوں کو روک دیا : حمزہ کو چھوڑ دو، کیوں کہ میں نے ان کے بھتیجے کو بہت زیادہ برا بھلا کہہ دیا تھا (قد سببت ابن أخيه سبا قبيحا) ۔ سيرة ابن ہشام 1/292 ابو جہل نے اسلام قبول نہیں کیا، لیکن اس کے اندر عرب کردار بھر پور طور پر موجود تھا۔ اسی عرب کردار کی وجہ سے اس نے اس وقت رد عمل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ بلکہ یہ دیکھا کہ اگر حمزہ نے مجھ کو مارا تو میں نے بھی حمزہ کے بھتیجے محمد کو بہت زیادہ برا بھلا کہا تھا۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام سے پہلے عربوں کا قومی کردار تھا۔ ان کے اندر اعلیٰ انسانی اوصاف موجود تھے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: خيارهم في الجاهلية خیارہم في الإسلام إذا فقہوا ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3353 )۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page