Al-Risala · May 2017 · page 32

غزوہ ہند

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲

غزوہ ہند

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عصابتان من أمتي أحرزهما الله من النار: عصابة تغزو الهند، وعصابة تكون مع عیسی ابن مريم عليهما السلام (سنن النسائی، حدیث نمبر 3175، مسند احمد، حدیث نمبر 22396)۔ یعنی ثوبان کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کے دو گروہ ہیں، جن کو اللہ نے آگ سے بچا لیا ہے۔ ایک گروہ جو ہند کا غزوہ کرے، اور دوسرا گروہ وہ جو عیسی ابن مریم کے ساتھ ہوگا۔

غزوہ کا لفظی مطلب ہے قصد کرنا، ارادہ کرنا۔ غزوہ کا لفظ اصل میں پرامن سفر کے معنی میں ہے۔ البتہ دوسرے الفاظ کی طرح’’غزوہ‘‘ میں بھی استعمال کے اعتبار سے معانی کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ جیسے اردو میں’’چلنا‘‘ اصلاً پرامن سفر کے لیے ہے۔ لیکن اگر یہ کہا جائے کہ ہم دشمن سے مقابلہ کے لیے چلے، تو یہاں چلنا برائے جنگ ہو جائے گا۔

حدیث میں’’غزوہ ہند‘‘ کا مطلب صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کوئی گروہ ہندوستانی علاقے میں اسلام کی اشاعت کے لیے سفر کر کے آئے گا۔ مثلاً ساتویں صدی عیسوی کے آخر میں ابتدائی مسلمانوں کے ایک قافلہ کا سفر کر کے جنوبی ہند (مالابار) میں آنا، اور یہاں اسلام کی اشاعت کا کام کرنا، یا عباسی دور میں صوفیاء کی جماعت کا ایران کے علاقے سے چل کر ہندوستان کے علاقے میں آنا، اور یہاں اسلام کی پرامن اشاعت کرنا۔ اس حدیث رسول میں جنگ کا کوئی ذکر نہیں۔ اس حدیث کے حوالے سے ہندوستان میں جنگ چھیڑنے کا کوئی جواز نہیں۔

عیسی ابن مریم کے حوالہ میں نہ جنگ کا ذکر ہے، اور نہ ہندوستان کا۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کسی علاقے میں عیسی ابن مریم کا دعوتی مشن شروع ہوگا، اور امت مسلمہ کا ایک گروہ اس پرامن مشن کا ساتھ دے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page