Al-Risala · May 2017 · page 47

مصیبت یا تحریک عمل

الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۴۷

سوال و جواب سوال خلافت کے معاملے میں صرف مولانا مودودی اور سید قطب کی وجہ سے اتنی تبدیلی آئی ہے یا یہ شروع سے رہا ہے کہ خلافت کو امت نے اپنا مشن سمجھا۔ تقریباً تمام مسالك فکر کے حاملین کو پڑھنے اور سننے سے ایسا لگتا ہے کہ خلافت ہمارا مشن ہے۔ لیکن مولانا، آپ کو پڑھنے کے بعد تو ایسا لگتا ہے که خلافت ہمارا بالکل مشن نہیں ہے۔ آخر کیا وجہ ہے، وضاحت کریں۔ (سراج احمد ندوی، ممبئی) جواب امت مسلمہ کا مشن خلافت کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہ بلاشبہ ایک مبتدعانہ تصور ہے۔ بیسویں صدی سے پہلے کبھی کسی نے یہ بات نہیں کہی۔ بیسویں صدی میں یہ تصور مسلمانوں کے اندر بطور مضاہات (التوبہ (30) آیا۔ بیسویں صدی میں کمیونسٹ تحریک کے زیر اثر نظام قائم کرو کا نظریہ پھیل گیا۔ اسی سے مسلمانوں میں یہ ذہن بنا کہ خلافت کا نظام قائم کرو۔

قرآن میں کہیں بھی یہ حکم نہیں آیا ہے کہ اے مسلمانو، تمھار ا فرض ہے کہ تم زمین پر خلافت کا نظام قائم کرو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر جو حکم اترا، وہ یہ تھا کہ تم لوگوں کو دعوت دو، ان کے اوپر انذار و تبشیر کرو۔ قرآن میں کوئی حکم ان الفاظ میں نہیں آیا ہے کہ یا محمد اقم دولة الاسلام، یا محمد نفذ الشريعة الاسلامية۔ اس لیے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ خلافت کا نظام قائم کریں، ان کو سب سے پہلے اس مضمون کا کوئی حکم قرآن کے حوالے سے بتانا چاہیے۔ سارے لوگوں کا ایک بات بولنا کوئی ثبوت نہیں کہ ان کا کہنا صحیح ہے۔ موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمان، منفی بولی بول رہے ہیں۔ حالاں کہ اسلام میں منفی بولی بولنا جائز نہیں۔ تمام مسلمان یہ کہتے ہیں کہ ہم سازشوں میں گھرے ہوئے ہیں۔ حالاں کہ یہ سوچ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ بے شمار مسلمان باہمی قتل اور خودکش بمباری میں مشغول ہیں۔ حالاں کہ ایسا فعل سراسر اسلام میں حرام ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ قرآن و حدیث کو دیکھیں، نہ کہ اس کو کہ لوگ کیا بات بول رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2017 All issues

Printed page