‘Oh, Wow, Quran, I would love to read it! ’
الرسالہ، مئی ۲۰۱۷، صفحہ ۵۰
اسلم خان نے انجام دیا۔
● 11 فروری 2017 کو آئی آئی سی دہلی میں ایک پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام میں صدر اسلامی مرکز نے زندگی اور موت کے تعلق سے خطاب کیا، یہ پروگرام ایک تعزیتی پروگرام تھا جو صدر اسلامی مرکز کے داماد جناب اطہر صدیقی صاحب کی وفات (7 فروری 2017) کی مناسبت سے رکھا گیا تھا۔ پروگرام کے اختتام پر تمام حاضرین کو ترجمہ قرآن اور دیگر لٹریچر دیے گئے۔
روشنی کی کرن : افغانستان سے ملی خبر کے مطابق، وہاں نوجوانوں کی ایک ٹیم تیار ہوگئی ہے۔ 12 مارچ 2017 کو قندھار سے مسٹر جلال الرحمن شر تشریف لائے، اور صدر اسلامی مرکز کو ان کی کتاب امن عالم کا پشتو ترجمہ (اسلام: سولہ کہ جگرہ) پیش کیا۔ اس کے علاوہ یہ لوگ صدر اسلامی مرکز کی کئی کتابوں کا پشتو زبان میں ترجمہ کر چکے ہیں۔ مثلاً مذہب اور سائنس، راز حیات، پیغمبر انقلاب، آخری سفر، راز حیات، اور اللہ اکبر۔ نیز تین لیف لیٹس کے پشتو ترجمے ہو چکے ہیں۔ مثلاً با اصول زندگی، اپنی تعمیر آپ، مسلمان کی اصل حیثیت۔ خواہش مند حضرات یہ تینوں پشتو لیف لیٹس گڈ ورڈ بکس، دہلی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ تذکیر القرآن کے پشتو ترجمہ کا کام چل رہا ہے۔ قرآن کی عالمی اشاعت : ذیل میں دعوتی فکر رکھنے والے ایک نوجوان کا تجربہ بیان کیا جا رہا ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا میں الرسالہ مشن، یعنی قرآن کو گھر گھر میں پہنچانے کی تحریک پھیلتی جارہی ہے: I had two experiences I would like to share with everyone. A few months back I was in New York and had taken a room in a youth hostel. There was a common place in the building where we can have breakfast and one morning I noticed an European girl with Maulana's translation of the Quran. I went over to her and asked her about it. She said someone had given it to her at Times Square. A few days back, I was in Jamshedpur. There is bookstore run there by a 90-year old man. He told me he had been following Maulana as far back as he could remember and had been selling Al-Risala since its very first edition. He had a lot of other nice things to say as well. Maulana's work and influence has genuinely reached across the world. From India to New York, I can feel the mission working everytime I step into a bookstore and find Maulana's work. Congratulations to all of you! (Asad Pervez, New Delhi)