قتال، جہاد
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۶
قتال، جہاد
قتال اور جہاد کا حکم اسلام میں کیا ہے۔ اس معاملے میں فقہاء اسلام کا مسلک سعودی عالم محمد بن ابراہیم التویجری نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد کی دو قسمیں ہیں، جہاد اور قتال۔ جہاد سے مراد جہادِ دعوت ہے اور وہ حسن لذاتہ ہے۔ اس کے مقابلے میں قتال حسن لغيره ہے۔ اس کا مقصد لڑ کر فتنہ کو ختم کرنا ہے۔ کیوں کہ اس سے دعوت کے دروازے کھل جاتے ہیں۔ (دیکھیے: موسوعة الفقه الإسلامي، محمد بن إبراهيم التويجري، بيت الافكار الدوليه، 2009، جلد 5 صفحہ 450)۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام میں قتال کا حکم ایک موقت (temporary) حکم ہے اور جہاد کا حکم ایک مستقل حکم۔ قتال فتنہ کو ختم کرنے کے لیے ہے (البقرۃ: 193، الانفال: 39)۔ جب فتنه ختم ہو جائے تو قتال کا حکم بھی موقوف ہو جائے گا۔ اس کے مقابلے میں جہاد برائے دعوت قرآن (الفرقان: 52) ہے۔ جہاد برائے قرآن یا برائے دعوت الی اللہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ یہی پر امن دعوت تمام انبیاء کا مشن تھا۔ یہ کبھی موقوف ہونے والا نہیں۔
قرآن کے مطابق، پیغمبر کا کام انذار و تبشیر (النساء: 165) تھا۔ یعنی پر امن انداز میں دعوت توحید کا کام انجام دینا۔ یہی کام پیغمبر کے بعد پیغمبر کی امت کا ہے۔ یہ ایک پر امن دعوتی جدوجہد ہے جو قیامت تک کسی توقف کے بغیر جاری رہے گی۔ قیامت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز اس کو ختم کرنے والی نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو پیدا کر کے زمین پر آباد کیا، اور اس کے بعد داعیان توحید کو کھڑا کیا جو ہمیشہ پر امن انداز میں انسان کو اس کا مقصد حیات (purpose of creation) بتاتے رہے۔ مگر بعد کے زمانے میں یہ ہوا کہ دنیا میں جبر (despotism) کا نظام قائم ہو گیا۔ خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق یہ مطلوب ہے کہ انسان کے لیے مذہب کے معاملہ میں ہمیشہ آپشن
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues