دور تائید
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۲۵
مثلا پہلے زمانے میں کوئی بڑی سواری صرف بادشاہ کے لیے ممکن تھی۔ اب ہر آدمی کار اور ہوائی جہاز استعمال کر رہا ہے۔ پہلے زمانے میں پیغام رساں کبوتر (homing pigeon) کسی بہت بڑے آدمی کے لیے قابل استعمال ہوا کرتی تھی۔ مگر آج ہم ایچ آف کمیونی کیشن کے زمانے میں ہیں۔ اب ہر انسان کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ ٹکنالوجی کا استعمال کر کے پیغام رسانی کا بڑے سے بڑا مقصد حاصل کر سکے، وغیرہ، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں یہ واقعہ بہت بڑے پیمانے پر انجام پایا۔ یہ گویا مواقع کے انفجار (opportunity explosion) کا زمانہ ہے۔ اب ہر آدمی کے لیے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ وہ جدید مواقع کو استعمال کر کے بڑے سے بڑا کام انجام دے سکے۔ یہی امکان پوری طرح اہل ایمان کے لیے کھلا ہوا ہے۔ عمومی طور پر پیدا ہونے والا یہ امکان تاریخ کا بالکل نیا ظاہر ہ ہے۔ یہ نیا ظاہر ہ گویا تائید کلچر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چار سو ہاتھی کا تحفہ دیا تھا۔ یہ چار سو ہاتھی دوہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گیے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔
یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ جہاں آج ’’جنگل‘‘ نظر آتا ہے، وہاں کل ’’میدان‘‘ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج ہاتھیوں کے غول گھومتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، وہاں جب کل کا سورج نکلتا ہے ہے تو دیکھنے والے دیکھتے ہیں کہ وہاں انسان چل پھر رہا ہے۔
زمانہ کے اس بدلتے ہوئے روپ میں بے شمار نشانیاں ہیں۔ مگر نشانیوں سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں، جو ان کی گہرائیوں میں جھانکنے کی بصیرت رکھتے ہوں۔ (ڈائری، 1985)
‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues