اعلیٰ معرفت
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰
اعلیٰ معرفت
معرفت الہی کا اعلیٰ درجہ وہ ہے جو مبنی بر حکمت معرفت (wisdom-based realization) ہو۔ یہ معرفت کی وہ قسم ہے جو ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے، جنھوں نے اپنے آپ کو اعلیٰ درجے کے ذہنی ارتقا (intellectual development) پر پہنچا ہو۔ عبد اللہ ابن رواحہ (وفات: 8ھ) اسی قسم کے ایک صحابی تھے۔ ان کے بارے میں ایک روایت حدیث کی کتابوں میں ان الفاظ میں آئی ہے: عن أنس بن مالك، قال: كان عبد الله بن رواحة إذا لقي الرجل من أصحابه، يقول : تعال نؤمن بربنا ساعة، فقال ذات يوم لرجل، فغضب الرجل، فجاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال : يا رسول الله، ألا ترى إلى ابن رواحة يرغب عن إيمانك إلى إيمان ساعة؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم : يرحم الله ابن رواحة، إنه يحب المجالس التي تتباهى بها الملائكة (مسند احمد، حدیث نمبر 13796)۔ انس بن مالک سے روایت ہے کہ عبداللہ بن رواحہ ایسا کرتے تھے کہ جب وہ کسی صحابی سے ملتے تو وہ اس سے کہتے کہ آؤ، تھوڑی دیر اپنے رب پر ایمان لے آئیں، ایک دن انہوں نے یہی بات ایک آدمی سے کہی تو وہ غصہ ہو گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر اس نے کہا کہ یا رسول اللہ، کیا آپ ابن رواحہ کو نہیں دیکھتے کہ وہ لوگوں کو آپ پر ایمان لانے کے بجائے تھوڑی دیر کے لئے ایمان کی طرف بلاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یا اللہ ابن رواحہ پر رحم کرے، وہ ان مجلسوں کو پسند کرتے ہیں جن پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔
یہ مبنی بر حکمت معرفت کی ایک مثال ہے۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق بعد کے زمانے میں غالباً اس قسم کی معرفت کا تصور باقی نہ رہا۔ اس کے بجائے ایک اور تصور رائج ہو گیا جس کو مبنی بر قلب تصور کہا جا سکتا ہے۔ اس دوسرے قسم کے معرفت کی ایک مثال محی الدین ابن عربی (وفات 638ھ) کی ہے۔ اس موضوع پر ان کا ایک شعر یہ ہے: العبد عبد وان ترقی والرب رب
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues