Al-Risala · June 2017 · page 11

اعلیٰ معرفت

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۱

وان تنزل۔ بندہ بندہ ہے، اگر چہ وہ اوپر چڑھے۔ اور رب رب ہے، اگر چہ وہ نیچے اترے۔ اس قسم کی ایک اور مثال ابن قیم الجوزیۃ (وفات: 751ھ) کی ہے۔ انھوں نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے: وَقَالَ تَعَالَى { لَيْسَ كمثله شي ء} فَهَذَا من المثل الأعلى وهو مستو على قلب المؤمن فهو عرشه (الفوائد، بيروت، 1973، صفحه 27)۔ اللہ نے فرمایا: اس کے مانند کوئی چیز نہیں (الشوری: 11)۔ اس لیے یہ ایک اعلی مثال کا معاملہ ہے۔ اور وہ مستوی ہے مومن کے قلب پر، پس مومن کا قلب اللہ کا عرش ہے۔

موجودہ زمانے میں سائنسی دریافتوں نے مبنی بر حکمت معرفت کے دائرے کو بہت زیادہ وسیع کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں سائنس نے جس نیچرل ورلڈ (natural world) کو دریافت کیا ہے، وہ پورا کا پورا گویا مبنی بر حکمت معرفت کی تفسیر ہے۔ ان دریافتوں نے موجودہ زمانے میں انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ زیادہ بڑے پیمانے پر اعلی معرفت والا ایمان حاصل کرے ۔ موجودہ زمانے میں سائنس کا ایک نیا موضوع (subject) وجود میں آیا ہے۔ اس کو انٹیلی جنٹ یونیورس (intelligent universe) کہا جاتا ہے۔ انٹیلی جنٹ یونیورس کے بارے میں سائنس کی نئی دریافتوں نے ساری کائنات کو معرفتِ اعلیٰ کی کائنات بنا دیا ہے۔ اس موضوع پر موجودہ زمانے میں اہل علم نے کافی لکھا ہے۔ بطور مثال چند کتابیں یہ ہیں: The Intelligent Universe, by Fred Hoyel (1984)

The Intelligent Universe: A Cybernetic Philosophy, by David Blythe Foster (1975)

The Intelligent Universe by James N. Gardner(2007)

Intelligent Universe: The Light-Second Code and the Golden Ratio, by Hristo Smolenov (2016)

اس موضوع پر کثیر تعداد میں مقالات اور کتابیں موجودہ زمانے میں شائع ہوئی ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان تمام کتابوں اور مقالات کا موضوع بلا اعلان رب العالمین کی معرفت ہے۔ ایک عربی ٹائٹل کے مطابق ان کو الله يتجلى في عصر العلم کہا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page