Al-Risala · June 2017 · page 13

عطیات خداوندی

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

عطیات خداوندی

ایک طویل حدیث رسول مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس کا ایک حصہ یہ ہے: و کلکم فقیر إلا من أغنيت فسلوني أرزقكم (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2495)۔ یعنی اے میرے بندو، تم سب کے سب محتاج ہو مگر وہ جس کو میں عطا کروں، اس لیے تم مجھ سے مانگو میں تم کو رزق عطا کروں گا۔ اس حدیث رسول کا تعلق صرف غریب اور امیر سے نہیں ہے، بلکہ انسان کی تمام ضرورتوں سے ہے۔ انسان ایک ضرورت مند مخلوق ہے۔ اس کی بے شمار ضرورتیں ہیں۔ لیکن کسی بھی ضرورت کو وہ خود پورا نہیں کر سکتا۔ وہ اپنی ہر ضرورت کے لیے محتاج ہے کہ خالق اس کو مسلسل طور پر پورا کرے ۔ اگر خالق کی طرف سے اس کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا انتظام نہ ہو تو انسان کا حال یہ ہوگا کہ وہ ضرورت مند تو ہوگا لیکن وہ اپنی کسی بھی ضرورت کو خود سے پورا کرنے پر قادر نہ ہوگا۔ یہ پہلو انسان کے لیے ایک ایسا پہلو ہے کہ وہ ہر وقت دعا اور شکر میں مشغول رہے۔

مثلاً انسان کے پاس آنکھیں ہیں، لیکن آنکھ سے دیکھنے کے لیے اس کو روشنی کی ضرورت ہے، اور روشنی خالق کی طرف سے مسلسل دی جارہی ہے، تب وہ اس قابل ہوتا ہے کہ وہ اپنی آنکھ سے ہر چیز کو دیکھے۔ انسان کے پاس کان ہے، لیکن سننے کے لیے اس کو ہوا کی ضرورت ہے، اور ہوا کا مسلسل انتظام خالق کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ انسان کے پاس نظام ہضم ہے، لیکن غذا کی فراہمی خالق کی طرف سے کی جارہی ہے، ورنہ انسان نظام ہضم کے باوجود بھوکا پڑا رہے گا۔ انسان کے جسم میں 78 آرگن (organs) ہیں، جو انسان کو مسلسل طور پر زندہ رکھتے ہیں، مگر ان آرگن کو متحرک رکھنے کا انتظام صرف خالق کی طرف سے کیا جاتا ہے، ورنہ انسان زندہ اور صحت مند نہ رہے، وغیرہ۔ یہ فہرست اتنی ہی وسیع ہے، جتنا کہ کائنات وسیع ہے۔ انسان اگر ان خدائی انتظامات کے بارے میں سوچے تو وہ ہر لمحہ شکر خداوندی میں غرق رہے۔ وہ ایک لمحے کے لیے بھی ذکر خداوندی سے غافل نہ ہو، وہ اَلَّذِينَ آمَنُو ا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ (2:165) کا مصداق بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page