Al-Risala · June 2017 · page 12

اللہ کے ننانوے نام

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲

اللہ کے ننانوے نام

حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے ننانوے نام ہیں (صحیح مسلم ، حدیث نمبر 2677)۔ سنن ابن ماجہ (حدیث نمبر 3861) میں ان ننانوے ناموں کو شمار کرکے بتایا گیا ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ جو شخص ان ناموں کا احصا کرے، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ اس حدیث کا مطلب عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ننانوے ناموں کو یاد کر لیا جائے، اور تسبیح پر ان کا شمار جاری رکھا جائے۔ تو اس عمل سے آدمی جنت میں داخل ہوگا۔ مگر یہ عمل ننانوے نام کا ایک مصغر مفہوم (کمتر مفہوم) ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہاں نام (اسماء) سے مراد صفات (attributes) ہیں۔ مزید یہ کہ ننانوے سے مراد گنتی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ کی بے شمار صفتیں ہیں۔ ذکر سے مراد ورد نہیں ہے، بلکہ بار بار زندہ شعور کے ساتھ اللہ کو یاد کرنا ہے۔ یہ بار بار کی یاد کس طرح ہوتی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اللہ کی آیات (نشانیوں) کو دریافت کرنا، اور ان کو پوائنٹ آف ریفرنس بنا کر برابر اللہ کی یاد کو اپنے ذہن میں تازہ کرتے رہنا۔ مثال کے طور پر قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَيُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِهِ وَالْمَلَائِكَةُ مِنْ خِيفَتِهِ (13:13)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک انسان جس کو اللہ کی معرفت حاصل ہو، وہ جب بجلی کی گرج (thunder) کو سنے گا، تو وہ اس کے لیے ایک پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گی۔ وہ اس کو لے کر خالق کی عظمت کو یاد کرے گا۔ اس کے اندر خالق کے لیے خوف اور محبت کا چشمہ جاری ہو جائے گا۔

ننانوے نام کا مطلب وہی ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقامات پر آیات کہا گیا ہے۔ یعنی کائنات میں اللہ کی بے شمار نشانیاں (signs) پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ نشانیاں ایک عارف انسان کے لیے اللہ کو یاد کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ اس وقت وہ بے اختیارانہ طور پر اللہ کی یاد اور اس کی حمد میں مشغول ہو جاتا ہے۔ اس عمل سے اس کی شخصیت میں ربانی ارتقا ہوتا رہتا ہے، اور ربانی معرفت کے اعتبار سے یہی ارتقایافتہ شخصیت وہ ہے جس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page