مومن قوی، مومن ضعیف
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۵
مومن قوی، مومن ضعیف
ایک حدیث رسول ہے: المؤمن القوی، خیر و أحب إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كل خير (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2664)۔ یعنی طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کے مقابلے میں بہتر اور زیادہ محبوب ہے، اور ہر ایک کے لیے خیر ہے۔
انسان پیدائشی طور پر دو قسم کے ہوتے ہیں، طاقت ور اور کمزور۔ اس لیے اہل ایمان میں بھی دو قسم کے افراد ہو سکتے ہیں۔ تاہم جس طرح طاقت ور مومن کے لیے خیر ہے، یعنی وہ زیادہ بڑے کام کر سکتا ہے۔ اسی طرح کمزور مومن کے لیے بھی خیر ہے۔ بشرطیکہ اس کے اندر سچی ایمانی اسپرٹ پائی جائے۔ طاقت ور مومن کے لیے خیر یہ ہے کہ وہ اپنی طاقت کی بنا پر دین کے لیے زیادہ بڑے بڑے کام کر سکتا ہے۔ لیکن اللہ کا عطیہ یہیں تک محدود نہیں۔ اللہ کا عطیہ اتنا وسیع ہے کہ کمزور مومن اگر استحقاق پیدا کرے تو وہ بھی اعلیٰ خیر تک پہنچ سکتا ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اگر سچی اسپرٹ ہو تو کمزور مومن کچھ مزید صفات کا حامل ہو جاتا ہے۔ مثلاً کمزور مومن میں تواضع (modesty) زیادہ ہوتی ہے۔ کمزور مومن دعا اور ذکر میں زیادہ مشغول ہوتا ہے۔ کمزور مومن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ اس کے دل سے اپنے عجز کی بنا پر ایسی دعائیں نکلیں جو اللہ کی رحمت کو انووک (invoke) کرنے والی ہوں۔ اس قسم کے اسباب کمزور مومن کی روحانیت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ طاقت ور مومن اگر جسمانی اعتبار سے قوی ہوتا ہے تو کمزور مومن اپنی روحانیت کے اعتبار سے قوی بن جاتا ہے۔
طاقت ور مومن کے لیے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ کبھی فخر (pride) میں مبتلا ہو جائے۔ لیکن کمزور مومن اس اعتبار سے محفوظ رہتا ہے۔ وہ اپنے عجز کی بنا پر زیادہ سے زیادہ متواضع (modest) بن جاتا ہے۔ اس طرح کمزور مومن اپنی کمزوری کے باوجود اس بات کا مستحق ہو جاتا ہے کہ اللہ اس کے عجز کی تلافی کے لیے اس کو اپنی خصوصی رحمت عطا فرمائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues