Al-Risala · June 2017 · page 16

اپنی تعمیر آپ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۶

اپنی تعمیر آپ

قرآن مین ایک نفسیاتی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (14-75: 15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے آپ سے خوب باخبر ہے۔ چاہے وہ کتنے ہی عذرات پیش کرے۔ قرآن کی اس آیت میں ایک نفسیاتی حقیقت کا حوالہ دیا گیا ہے۔ یہ نفسیاتی حقیقت ہر انسان کے لیے ایک حجت داخلی کی حیثیت رکھتی ہے۔ انسان بظاہر دوسرے حیوانات کی طرح ایک حیوان ہے۔ مگر انسان کے اندر ایک صفت ایسی ہے جو اس کے لیے غیر مشترک صفت کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صفت صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے، کسی اور حیوان کے اندر نہیں۔ ایگو (ego) کی صفت انسان اور دوسرے حیوانات میں غیر مشترک طور پر پائی جاتی ہے، کسی میں کم کسی میں زیادہ۔ مگر ایک اضافی صفت ہے جو صرف انسان کو دی گئی ہے۔ یہ صفت کسی بھی حیوان کے اندر مطلق طور پر موجود نہیں۔ یہ ہے ضمیر (conscience) کی صفت۔ یعنی سیلف (self) کے ساتھ اینٹی سیلف (anti-self) کی صفت۔

یہ فرق بتاتا ہے کہ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ ایک سیلف میڈ میں (self-made man) بنے، اور اس کی صورت یہ ہے کہ وہ اپنی نگرانی خود کرے۔ وہ اپنے اندر سیلف کرکشن (self-correction) کا پراسس (process) جاری کرے ۔ وہ تعمیر خویش کا نمونہ بن جائے۔ انسان کو اس کے خالق نے مکسچر آف اپوزٹس (mixture of opposites) بنایا ہے۔ یہ انسان کے اوپر اس کے خالق کا احسان عظیم ہے۔ خالق یہ چاہتا ہے کہ انسان سیلف ڈسکوری (self-discovery) کی سطح پر کھڑا ہو۔ وہ اپنی غلطی کو خود دریافت کرکے اس کی اصلاح کرتا رہے۔ خدا کی کتاب اور کائنات کی نشانیاں بلاشبہ انسان کے لیے مددگار ہیں۔ اسی کے ساتھ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود اپنے عمل سے جنت کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate) بنائے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page