Al-Risala · June 2017 · page 18

اپنی تعمیر آپ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۸

انسان کی تخلیق

قرآن کی ایک سورہ کا نام التین ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: گواہ ہے تین اور زیتون۔ اور طور سینا۔ اور یہ بلد امین۔ ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا۔ پھر اس کو سب سے نیچے پھینک دیا۔ لیکن جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کیے تو ان کے لیے کبھی نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔ تو اب کیا ہے جس سے تم جزاء و سزا کو جھٹلاتے ہو۔ کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں۔ التین ، زیتون، طور سینین اور بلد امین، یہ چاروں علاقے چار پیغمبروں کے مقامات عمل تھے۔ التین کا تعلق حضرت نوح سے ہے، زیتون کا تعلق حضرت مسیح سے، طور کا تعلق حضرت موسیٰ سے، اور بلد امین (مکہ) کا تعلق پیغمبر اسلام سے۔ ان پیغمبروں نے انسان کو بتایا کہ اللہ رب العالمین کا نقشہ تخلیق کیا ہے۔ اور اس کے مطابق اللہ انسان سے کیا معاملہ کرنے والا ہے۔ خالق نے انسان کو احسن تقویم (best form) میں پیدا کیا۔ پھر اس کو اسفل سافلین (کمترین حالت) میں ڈال دیا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو اس کی تخلیق کے مطابق جو ہیبیٹاٹ (habitat) مطلوب ہے، اس دنیا میں وہ ہیبیٹاٹ کو نہیں دیا گیا، بلکہ ایک ایسی دنیا میں اس کو بسایا گیا جو انسان کے لیے مطلوب ہیبیٹاٹ نہیں تھا۔ موجودہ دنیا انسان کو عام تقسیم کے اصول پر کسی استحقاق کے بغیر ملی ہے۔ مگر ہیبیٹاٹ صرف اس انسان کو ملے گا، جو موجودہ دنیا میں اپنے کردار سے اس کا استحقاق ثابت کرے۔ اس فرق کی بنا پر موجودہ دنیا میں انسان کا یہ حال ہے کہ وہ ہمیشہ غیر مطمئن رہتا ہے۔ کوئی بھی چیز اس کو سکون نہیں دیتی۔ کیوں کہ جس چیز سے اس کو سکون مل سکتا ہے، وہ اس کا ہیبیٹاٹ ہے، جو کہ موجودہ دنیا میں اس کو دیا ہی نہیں گیا۔ یہی موجودہ دنیا میں انسان کا اصل مسئلہ ہے۔ اس کی ایک مادی مثال مچھلی ہے۔ مچھلی کی ساخت دوسرے حیوانات سے مختلف ہوتی ہے۔ تمام حیوانات کی زندگی کے لیے آکسیجن ضروری ہے، تمام حیوانات ہوا سے آکسیجن حاصل کرتے ہیں۔ لیکن مچھلی کی ساخت مختلف ہے۔ مچھلی صرف پانی میں تحلیل شدہ آکسیجن (dissolved oxygen) سے آکسیجن حاصل

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page