Al-Risala · June 2017 · page 19

اپنی تعمیر آپ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹

کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مچھلی پانی کے باہر تڑپتی رہتی ہے، وہاں ہوا موجود ہوتی ہے، لیکن وہاں اس کے لیے تحلیل شدہ آکسیجن موجود نہیں ہوتا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ پانی مچھلی کا ہیبیٹاٹ ہے۔ مچھلی اپنے ہیبیٹاٹ میں سکون کے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن ہیبیٹاٹ کے باہر وہ بے چین ہو جاتی ہے۔ انسان کی یہی وہ حالت ہے جس کو ثُمَّ رَدَدْنَاہُ أَسْفَلَ سَافِلِيْنَ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ انسان کا ہیبیٹاٹ جنت ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو جنت حاصل نہیں رہتی ، اس لیے یہاں وہ بے چین رہتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی اس حالت پر غور کردے۔ وہ غور وفکر کے ذریعہ اپنے ہیبیٹاٹ (جنت) کو دریافت کرے۔ اور پھر جنت کے مطابق عمل کر کے عالم آخرت میں اپنے ہیبیٹاٹ (جنت) کو پائے ، اور وہاں ابدی خوشی کی زندگی گزارے۔

اِلَّا الَّذِيْنَ آمَنُوا سے مراد یہی ہے۔ یہاں ایمان سے مراد یہ ہے کہ آدمی پیغمبر کی رہنمائی پر تدبر کرے۔ وہ پیغمبر کی رہنمائی کے ذریعہ اللہ کے تخلیق نقشہ کو جانے ۔ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ ایمانی دریافت کے مطابق اپنی زندگی کا درست نقشہ بنائے، وہ اپنی عملی زندگی کو ایمانی دریافت کے مطابق تعمیر کرے۔ الیس الله باحکم الحاکمین کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی شان کے خلاف ہے کہ وہ انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کرے، اور پھر اس کو ابدی طور پر اسفل سافلین میں ڈال دے۔ تخلیق کے اندر پائی جانے والی درجے کی معنویت انسان کے لیے اس انجام کی تردید کرتی ہے۔ اس پہلو پر غور کر کے انسان یہ دریافت کرتا ہے کہ انسان کے لیے پیدائشی طور پر یہ مقدر ہے کہ اس کو اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ ملے ۔ لیکن یہ مطلوب ہیبیٹاٹ عمل صالح کی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔ انسان کو اس کی تخلیق تو اپنے آپ مل گئی۔ لیکن انسان کو اس کا مطلوب ہیبیٹاٹ اپنے آپ ملنے والا نہیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ایمان اور عمل صالح کی شرط کو پورا کر کے یہ ثابت کرے کہ وہ واقعۃً اس انعام کا اہل ہے۔ انسان کو اس کا وجود تخلیق کے ذریعہ اپنے آپ مل گیا، لیکن انسان کو اس کا ہیبیٹاٹ (جنت) اپنے آپ نہیں ملے گی، بلکہ جنت اس کو اس وقت ملے گی، جب کہ دنیا کی زندگی میں اپنے عمل سے وہ اپنے آپ کو جنت کا اہل ثابت کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page