Al-Risala · June 2017 · page 23

جنت انسان کا ہیبیٹاٹ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۲۳

اس ابدی جنت یا دوسرے الفاظ میں اس ہیبیٹاٹ میں جگہ پانے کے لیے قرآن میں جو شرط بتائی گئی ہے، وہ یہ ہے کہ انسان موجودہ امتحان کی دنیا سے گزرتے ہوئے، اپنے آپ کو احسن العمل (الملک: 2) ثابت کرے۔ موجودہ دنیا اس انداز سے بنائی گئی ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے تجربات پیش آتے ہیں۔ دنیا کے اس پہلو کا ذکر قرآن کی ایک آیت میں اس طرح آیا ہے: اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے کچھ ڈراور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے۔ اور ثابت قدم رہنے والوں کو خوش خبری دے دو۔ جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کو کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ کہتے ہیں ہم اللہ کے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے اوپر ان کے رب کی شاباشیاں ہیں اور رحمت ہے۔ اور یہی لوگ ہیں جو راہ پر ہیں۔ (157-2:155)۔ انسان کے ساتھ موجودہ دنیا میں جو ناخوش گوار واقعات پیش آتے ہیں، وہ اس کی تربیت کے لیے ہوتے ہیں۔ یہ واقعات اس لیے ہیں تاکہ انسان ہر صورت حال کا مثبت رسپانس (positive response) دے۔ اور اس طرح اپنے آپ کو ابدی جنت میں داخلے کے لیے اس کا اہل (competent) ثابت کرے۔ اہلیت کے اسی معاملے کو قرآن میں ایمان اور عمل صالح (التین: 6) کہا گیا ہے۔

تاہم اللہ رب العالمین کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے حق میں ارحم الراحمین ہے۔ اس معاملے کو ایک حدیث قدسی میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ غلبت رحمتی علی غضبی (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3194)۔ یعنی میری رحمت میرے غضب کے اوپر غالب ہے۔ اللہ کی رحمت کی مختلف صورتیں ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ اللہ کے یہاں سائل کو بھی حقدار کا درجہ دیا گیا ہے (الذاریات: 19، المعارج: 25)۔ اور ظاہر ہے کہ جب اللہ نے انسان کے لیے اس قسم کا اصول مقرر کیا ہے کہ سوال کرنے والے کے ساتھ بھی حقدار جیسا معاملہ کرو تو یقینی ہے کہ خود اللہ کی سنت بھی یہی ہوگی کہ اس کے یہاں کوئی سائل محروم نہ رہے۔ بشرطیکہ وہ حقیقی معنی میں سائل ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page