جنت انسان کا ہیبیٹاٹ
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۲۴
اس معاملے کی ایک عملی مثال قرآن میں تقسیم وراثت کی آیت میں اس طرح ملتی ہے: وَإِذَا حَضَرَ الْقَسْمَةَ أُوْلُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوْهُمْ مِنْهُ وَقُوْلُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا (4:8) ۔ یعنی اور اگر تقسیم کے وقت رشتہ دار اور یتیم اور محتاج آجائیں تو اس میں سے ان کو بھی کچھ دو اور ان سے ہمدردی کی بات کہو۔
اللہ کا کوئی بندہ قرآن کی اس آیت کو پڑھے، اور روتے ہوئے اللہ سے یہ کہے کہ خدایا، تو نے انسانوں کو یہ حکم دیا ہے کہ تقسیم وراثت کے وقت کوئی غیر مستحق اگر وہاں آجائے تو اس کو محروم نہ کرو، بلکہ اس کو بھی ایک حصہ ادا کرو۔ خدایا، بندوں کے لیے جب تو نے یہ اصول مقرر فرمایا ہے تو اس معاملے میں بے شمار گنا اعلیٰ درجے میں تو اس صفت کا حامل ہوگا۔ میں اپنے عمل کے اعتبار سے ایک غیر مستحق انسان ہوں، لیکن سوال کے اعتبار سے میں اپنے آپ کو جنت کا سوال کرنے والوں کی لائن میں کھڑا کر رہا ہوں۔ تو مجھ کو جنت سے محروم نہ فرما۔ اگر کوئی اللہ کا بندہ سچے دل کے ساتھ اس قسم کی دعا کرے تو یقینی ہے کہ اللہ کی رحمت سے اس کی دعا قبولیت کا درجہ پائے گی۔ قرآن میں جنت کا ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ آئے ہیں: وَسَارِعُوْا إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ أُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (3:133) ۔ یعنی دوڑو اپنے رب کی بخشش کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی چوڑائی آسمان اور زمین ہیں۔ وہ تیار کی گئی ہے اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے۔ قرآن کی اس آیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جنتی انسانوں کے لیے ان کا جو ابدی ہیبیٹاٹ بنے گا، اس کے امکانات کتنے زیادہ ہوں گے ۔ وہ گویا اپنے آپ میں پوری کائنات ہوگا۔ اہل جنت کی اس دنیا کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنَّاتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًا ۔ خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا ۔ قُلْ لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا یعنی بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، ان کے لئے فردوس کے باغوں کی مہمانی ہے۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ وہ وہاں سے کبھی نکلنا نہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues