Al-Risala · June 2017 · page 25

جنت انسان کا ہیبیٹاٹ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۲۵

چاہیں گے۔ کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لئے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملا دیں۔

جنت میں ایک طرف اہل جنت کی تمام مادی خواہشوں کی تکمیل کا سامان ہو گا۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَشْتَهِی أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِیهَا مَا تَدْعُونَ (41:31) یعنی اور تمہارے لیے وہاں ہر چیز ہے جس کا تمہارا دل چاہے اور تمہارے لیے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو جو مادی نعمتیں ملی ہیں، وہ آخرت میں مزید اضافہ کے ساتھ انتہائی اعلیٰ صورت میں حاصل ہوں گی۔

مزید یہ کہ انسان کی ذہنی اور فکری سرگرمیوں کے لیے وہاں ایک ایسی وسیع دنیا ہو گی جس کی حدیں کبھی ختم نہ ہوں۔ اہل جنت کے لیے وہاں یہ موقع ہوگا کہ وہ اپنی فکری سرگرمیوں (intellectual activities) کو انتہائی تخلیقی انداز میں ابدی طور پر جاری رکھے۔ ☆☆☆☆☆☆ موجودہ دنیا امتحان کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہاں ہمیشہ ہر ایک کے لیے ناموافق حالات موجود رہیں گے، تا کہ امتحان کے تقاضے کو پورا کیا جاسکے۔ خدائی تخلیق کے مطابق، معیاری دنیا موت کے بعد صرف جنت میں بنے گی۔ موجودہ دنیا میں انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ اس کو اگلے دورِ حیات میں بننے والی معیاری دنیا (جنت) میں داخلہ مل سکے۔ موجودہ دنیا میں معیاری سماجی نظام بنانے کی کوشش کرنا گویا جنت کو موجودہ دنیاہی میں تعمیر کرنا ہے جو خدائی نقشہ کے مطابق، سرے سے ممکن ہی نہیں۔

☆☆☆☆☆☆

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page