Al-Risala · June 2017 · page 28

ابلیس کا طریقہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

ابلیس کا طریقہ

ابلیس جنات کا سردار تھا۔ قرآن وحدیث میں ابلیس کو برے کردار کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے، اور اس کو لعنت زدہ قرار دیا گیا ہے۔ قرآن وحدیث میں تلقین کی گئی ہے کہ اہل ایمان ابلیس سے پناہ کی دعا کرتے رہیں۔ ابلیس کا جرم کیا تھا۔ اس کا جرم یہ تھا کہ اس نے اللہ کے تخلیقی نقشہ(creation plan of God)کو اللہ کی نظر سے نہیں دیکھا، بلکہ خود اپنی نظر سے دیکھا۔ اس تخلیقی نقشے میں کیا حکمتیں شامل ہیں، اس پر اس نے غور نہیں کیا، بلکہ صرف ایک بات کو لے کر اس کا دشمن بن گیا کہ اس تخلیقی نقشے میں اس کے اپنے خیال کے مطابق اس کو کم درجہ دیا گیا ہے، اور آدم کو زیادہ بڑا درجہ (الاعراف: 12)۔

یہ ابلیس کا طرزِفکر ہے۔ اس طرزِفکر سے انسان کے اندر وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو منفی سوچ (negative thinking) کہا جاتا ہے۔ انسان اگر زندگی کے نظام کو خدائی نقشے کے مطابق سوچے تو اس کے اندر مثبت سوچ پیدا ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر وہ زندگی کو صرف اپنے اعتبار سے سوچے تو وہ ہمیشہ منفی سوچ میں مبتلا رہے۔ گا۔ کیوں کہ کہیں نہ کہیں اس کو نظر آئے گا کہ اس کے اپنے خیال کے مطابق اس کا جو درجہ ہے، وہ درجہ اس کو نہیں ملا۔ ایسے انسان کو یہ احساس ہمیشہ رہے گا، خواہ نظام کتنا ہی زیادہ درست کیوں نہ ہو۔

ابلیس کی غلطی یہ تھی کہ وہ منفی سوچ میں مبتلا ہو گیا، اور اتھارٹی کے خلاف جھنڈا لے کر کھڑا ہو گیا۔ اس کے برعکس ملکوتی طرزِفکر یہ ہے کہ آدمی کے حصے میں جو کچھ آیا ہے، وہ اس پر راضی رہے، اور یہ سمجھے کہ یہی اس کے لیے بہتر تھا (الخیر فیما وقع)۔ ایسا آدمی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے پر دھیان دے گا۔ اس طرح وہ درست راستے پر رہے گا۔ اس ملکوتی طرزِفکر کے مقابلے میں دوسرا شخص وہ ہے، جو اتھارٹی کے خلاف تحریک چلائے۔ ایسا شخص بلاشبہ غلط راستے پر ہے۔ پہلا انسان سماج میں خیر لائے گا، اور دوسرا انسان صرف فساد کا سبب بنے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page