Al-Risala · June 2017 · page 31

ری ایکشن کلچر

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱

ری ایکشن کلچر

مادی دنیا کے قوانین میں سے ایک وہ ہے جس کو نیوٹن کی طرف منسوب کر کے، نیوٹنز تھرڈلا کہا جاتا ہے:

Newton's third law is: For every action, there is an equal and opposite reaction. اصل میں یہ قانون تو فطرت کا قانون ہے۔ مگر نیوٹن نے پہلی بار اس کو دریافت کیا تھا، اس لیے وہ نیوٹن کی طرف منسوب ہو گیا۔ اس تیسرے قانون کا تعلق مٹیریل ورلڈ سے ہے۔ یعنی مٹیریل ورلڈ میں ایسا ہوتا ہے۔ مگر ہیومن ورلڈ میں ایموشن (emotion) شامل ہو جاتا ہے، اس لیے انسانی دنیا میں ہر رِی ایکشن ری ایکشن پلس بن جاتا ہے۔ یعنی ایموشن کی بنیاد پر رِی ایکشن کی مقدار بہت بڑھ جاتی ہے۔ غالباً یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ﴿وَاتَّقُوا فِتْنَةً لا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ خَاصَّةً (8:25)۔ یعنی اور ڈرو اس فتنہ سے جو خاص انھیں لوگوں پر واقع نہ ہوگا جو تم میں سے ظلم کے مرتکب ہوئے ہیں۔

کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جن مقامات پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ وہاں کچھ نوجوانوں نے پتھر پھینکا تھا، وہ ان کی غلطی ہو سکتی ہے۔ مگر جب فریق ثانی نے جوابی کارروائی کی تو انھوں نے ایسے لوگوں کو بھی مار ڈالا جو اس میں براہ راست شریک نہ تھے۔ مگر یہ سوچ درست سوچ نہیں۔ قرآن کے الفاظ میں ردعمل ہمیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ چناں چہ صرف ظالم اس کی زد میں نہیں آتے، بلکہ غیر ظالم بھی ضرور اس کی زد میں آجاتے ہیں۔

قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ مادی دنیا میں رد عمل ہمیشہ عمل کے برابر ہوتا ہے، لیکن انسانی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ انسانی دنیا میں جب ردعمل کا واقعہ ہوگا تو وہ ہمیشہ ابتدائی عمل سے زیادہ ہوگا۔ اس لیے عمل کرنے والوں کو اس معاملے میں عمل سے پہلے بہت زیادہ سوچنا چاہیے ۔ اقدام

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page