ری ایکشن کلچر
الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲
کے بعد جب نتیجہ سامنے آجائے اس وقت شکایت کی بولی بولنا، ایسا کلام ہے جو خواہ گرامر کے لحاظ سے درست ہو، لیکن حقیقت کے لحاظ سے وہ بلاشبہ سرتا سر بے معنی ہوتا ہے۔ بیل کو اگر آپ ایک پتھر ماریں تو اس کے بعد یہ شکایت بے معنی ہے کہ میں نے تو صرف ایک پتھر مارا تھا، بیل نے میرے اوپر دو سینگوں سے کیوں حملہ کر دیا۔ یا آپ یہ کہیں کہ ہم نے تو کچھ دستی بم پھینکے تھے، پھر فریق ثانی نے ہوائی بمباری کیوں کر ڈالی، وغیرہ۔ فطرت کے قانون کے مطابق اجتماعی زندگی میں شکایت (complain) بے معنی ہے۔
حقیقت کے اعتبار سے دیکھیے تو شکایت کا لفظ صرف ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ حقیقت کی دنیا میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ حقیقت کی دنیا اصلا ایک بے شکایت دنیا ہے۔ شکایت اس وقت شروع ہوتی ہے جب کہ کوئی شخص ایک غلطی کرے، اور غلطی کا ذمہ دار اپنے آپ کو ٹھہرانے کے بجائے، اس کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہرانے لگے۔
خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں شکایت کا کوئی مقام نہیں۔ شکایت صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ اگر آپ کو کسی سے شکایت پیدا ہوتی ہے تو خود اپنے اندر اس کا سبب ڈھونڈیے، اور ساری توجہ اپنی اصلاح پر لگائیے۔ اپنی اصلاح کر کے آپ مفروضہ شکایت کا خاتمہ کر سکتے ہیں۔ شکایت کے موقعہ پر آدمی کو چاہیے کہ وہ حسن تدبیر کا طریقہ اختیار کرے۔ شکایت سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ شکایت عملاً صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔
ردِ عمل (reaction) ہمیشہ کسی عمل کے بعد پیدا ہوتا ہے۔ آپ کے عمل کے بعد دوسرے فریق کی طرف سے جو ردِ عمل سامنے آئے، اس پر شکایت کرنا، بے فائدہ ہے۔ کوئی دوسرا آدمی آپ کی شکایت سے اپنے آپ کو ردِ عمل سے روکنے والا نہیں۔ ردِ عمل سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آپ اپنی طرف سے کوئی ایسا عمل نہ کریں، جس کا نتیجہ دوسروں کی طرف سے ردِ عمل کی صورت میں سامنے آئے۔ آپ اپنی طرف سے پتھر نہ ماریں تو دوسروں کی طرف سے گولی بھی آنے والی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues