Al-Risala · June 2017 · page 37

اجتہادی خطا کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۷

لیکن اس حکم کی ایک حد تھی۔ وہ کوئی ابدی حکم نہ تھا، جیسا کہ خود قرآن کی آیت سے واضح ہے : وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ (2:193)۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق قتال کا حکم فتنہ کے ختم ہونے تک ہے۔ فتنہ ختم ہو جائے تو اس کے بعد قتال بھی ختم۔ فتنہ سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے۔ قدیم زمانہ میں فتنہ کا کلچر عام طور پر موجود تھا۔ لیکن موجودہ زمانہ میں خود یونیورسل نارم (universal norm) کے مطابق اس مذہبی فتنہ کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے۔ اس لیے اب فتنہ کے نام پر جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ ایسی حالت میں موجودہ زمانے میں جن لوگوں نے جہاد بالسيف کا فتویٰ دیا، وہ سب کا سب اجتہادی خطا کا کیس تھا۔ افریقہ میں فرانس کے خلاف، ایشیا میں برٹش کے خلاف، فلسطین میں یہود کے خلاف، وغیرہ۔ اس قسم کے تمام فتاویٰ بلاشبہ اجتہادی خطا کے کیس تھے ۔ اب فرض کے درجے میں ضروری ہے کہ علماء اس غلطی کا عمومی اعلان کریں۔ اس سے کم درجہ کی کوئی چیز اس معاملہ میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔ ☆☆☆☆☆ موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسلام میں اصلاح (reform) کی ضرورت پیش آگئی ہے۔ مگر یہ صرف غلط فہمی کی بنا پر ہے۔ اس سلسلہ میں جو مثالیں دی جاتی ہیں، ان کا تعلق خود اسلام سے نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے اپنے اضافہ سے ہے۔ اس سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے اپنے اضافے سے اسلام کو پاک کرنے کی ضرورت ۔ خود اسلام میں اصلاح یا نظر ثانی کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہوتی ۔ (فکر اسلامی)

☆☆☆

روزہ اطاعت الہی کی مشق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ہر معاملہ میں اسی طرح خدا کے حکم کی پابندی کریں گے جس طرح رمضان میں کھانے پینے کے معاملے میں کرتے ہیں۔ ☆☆☆☆☆

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page