Al-Risala · June 2017 · page 36

اجتہادی خطا کا معاملہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

کے بجائے علماء نے یہ کیا کہ خلیفہ ثانی کے اس فیصلہ کو ایک مستقل شرعی حکم بنا کر اسلامی فقہ میں شامل کر دیا۔ یہ بلاشبہ ایک غلطی تھی، اور اب فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ علماء اس غلطی کی تصحیح کریں، اور یہ اعلان کریں کہ اب طلاق کا وہی طریقہ عملاً باقی رہے گا، جو قرآن میں مذکور ہے۔ اس کے خلاف جو فتاویٰ دیے گیے، وہ سب کے سب منسوخ قرار پائیں گے۔

2۔ یہی معاملہ جزیہ کا تھا۔ جزیہ کا ذکر بلاشبہ قرآن میں موجود ہے۔ مگر وہ اسلام کے ابتدائی دور میں کچھ مخصوص گروہوں کے لیے وقتی طور پر بطور تعزیری ٹیکس (Punitive tax) اختیار کیا گیا تھا، وہ عام شرعی حکم نہ تھا کہ بعد کے زمانے میں بھی اس پر عمل کیا جائے۔ بعد کے زمانے میں اورنگ زیب جیسے جن مسلم سلاطین نے اس کو دوبارہ نافذ کیا، وہ ان کی اجتہادی خطا تھی۔ اب علماء کو یہ اعلان کرنا چاہیے کہ مسلم حکومتوں میں جزیہ کا طریقہ اختیار نہیں کیا جائے گا، بلکہ جنرل ٹیکس (general taxation) کا طریقہ اختیار کیا جائے گا جو کہ دوسرے تمام ملکوں میں رائج ہے۔ 3۔ یہی معاملہ شاتم رسول کی سزا کا ہے۔ مسلم فقہاء نے عام طور پر اتفاق کر لیا ہے کہ شتم رسول ایک قابل دست اندازی جرم (cognizable offence) ہے۔ ایسے شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا: قال ابن المنذر : أجمع عوام أهل العلم على أن حد من سب النبي صلى الله عليه وسلم القتل ( الصارم المسلول على شاتم الرسول، ابن تیمیہ، صفحہ (3) ۔ یعنی اکثر اہل علم کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سب وشتم کیا، اس کی حد قتل ہے۔ اس مسئلہ میں اگر چہ بڑے بڑے علماء کے نام ہیں، لیکن یہ مسئلہ بلاشبہ ایک اجتہادی خطا کا مسئلہ ہے۔ اب علماء اسلام پر فرض کے درجہ میں ضروری ہے کہ وہ اعلان کریں کہ شاتم رسول کے قتل کا مسئلہ شرعی مسئلہ نہ تھا، وہ اجتہادی خطا کا مسئلہ تھا۔ اب ہم اس کو ہمیشہ کے لیے ختم کرتے ہیں۔ جس انسان کو شاتم رسول قرار دیا جاتا ہے، وہ زیادہ درست طور پر مدعو ہوتا ہے، اور مدعو کے لیے نصیحت اور دعوت ہے، نہ کہ قتل۔

4۔ یہی معاملہ جہاد بالسيف کا ہے۔ قرآن میں جہاد بالسيف یا قتال کا حکم دیا گیا تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2017 All issues

Printed page