Al-Risala · July 2017 · page 5

ایم جنس آف اسلام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۵

سے شروع ہوا، اور اب اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش: 1942) کی تحقیقات کے ساتھ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ دریافت کردہ حقائق کو لے کر خدا کے دین کو تبیین کامل کے درجے تک پہنچایا جائے۔ اسی کے ساتھ کمیونی کیشن کے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خالق کے پیغام کو زمین کے ہر چھوٹے بڑے گھر میں پہنچا دیا جائے۔ جیسا کہ پیغمبر نے پیشین گوئی کی ہے: لا يبقى على ظهر الأرض بيت مدر، ولا وبر إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، حدیث نمبر 23814)۔

اسلام ہر دور میں پیغمبروں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہا ہے۔ کوئی دور اس واقعہ سے خالی نہیں۔ لیکن اسلام کے ظہور کا ایک اور درجہ تھا، جس کو قرآن میں تبیین حق (فصلت: 53) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ حدیث میں ظہورِ اسلام کے اس واقعے کو شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اسلام کے اس اعلیٰ ظہور کے لیے اعلیٰ مواقع درکار تھے۔ ایک طرف معرفتِ رب کے دلائل اور دوسری طرف دعوت کے اعلیٰ مواقع۔ یہ دونوں چیزیں جدید سائنسی دور میں اپنی کامل صورت میں ظہور میں آچکی ہیں۔ اب ایک ایسے گروہ کی ضرورت ہے جو ان مواقع کو پہچانے، اور ان کو استعمال کرتے ہوئے اسلام کے اُس آخری ظہور کو واقعہ بنائے جس کو حدیث میں شہادتِ اعظم (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کہا گیا ہے۔

اس نشانے کی تکمیل کے لیے تمام اسباب مہیا ہو چکے ہیں۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ امت مسلمہ منفی سوچ سے باہر آئے، جس کو قرآن میں الرجز (المدثر: 5) کہا گیا ہے۔ جدید مواقع کو اسلام کے ظہور ثانی کے لیے استعمال کرنا، انھیں لوگوں کے لیے ممکن ہے جو پوری طرح منفی سوچ (negative thinking) سے پاک ہوں، اور اعلیٰ درجے کی مثبت سوچ (positive thinking) کے حامل بن چکے ہوں۔ یہ کام ایک انتہائی مثبت کام ہے، اور کامل درجے کی مثبت سوچ کی صفت رکھنے والے ہی اس کو انجام دے سکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو دورِ جدید کو ایک موید اسلام دور کی حیثیت سے دریافت کریں، اور اپنے عمل کی ری پلاننگ کے تحت اس امکان کو واقعہ بنائیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page