Al-Risala · July 2017 · page 6

ایم جنس آف اسلام

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۶

پلاننگ ، ری پلاننگ کہ اس کے وجود کو پلاننگ (planning) کا مطلب ہے منصوبہ بند انداز میں کام کرنا۔ محنت کے ساتھ جب تنظیم (organization) کو شامل کیا جائے تو اسی کا نام منصوبہ بندی ہے۔ قدیم تصور یہ تھا کہ کامیابی کے لیے محنت (hard work) سب سے اہم ہے۔ مگر موجودہ زمانے میں ٹیکنالوجی کی ترقی نے اس میں ایک مزید پہلو کا اضافہ کیا ہے، اور وہ تنظیم ہے۔ اس تصور کے مطابق پلاننگ کا مطلب | ہے منظم انداز میں کسی کام کے لیے اپنی محنت صرف کرنا۔ | ری پلاننگ (re-planning) گویا پلاننگ پلس (plus | ے تجی پرے ، ب planning) کا دوسرا نام ءہتہمعار ے ک شان یب ہے۔ ری پلاننگ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے منصوبہ میں تجربات کا اضافہ کرنا، اور نئی معلومات کی روشنی میں از سر نو اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ اس طریق کار کے ذریعے یہ ممکن ہوتا ہے کہ پہلے منصوبہ میں جو مقصد حاصل نہ ہوا ہو، اس مقصد کو دوبارہ بہتر انداز میں منظم کر کے از سر نو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ ری پلاننگ کا طریقہ ہر معاملے میں قابل انطباق (applicable) ہے۔ اسی طرح اسلامی عمل کے معاملے میں بھی یہ طریقہ بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ ہارون الرشید عباسی سلطنت کا پانچواں خلیفہ تھا۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار وہ بغداد میں اپنے محل کے اوپر اپنی ملکہ زبیدہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے دیکھا کہ فضا میں بادل کا ایک ٹکڑا اڑتا ہوا جا رہا ہے۔ اس کو دیکھ کر اس نے کہا: امطری حيث شئت، فسيأتيني خراجك۔ جہاں چاہے جا کر برس، تیرا خراج میرے پاس ہی آئے گا۔

ہارون الرشید کی یہ بات قدیم زمانے میں ایک با معنی بات ہو سکتی تھی، مگر آج اس کی معنویت ختم ہو چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس سلسلے میں کئی نئی باتیں وجود میں آچکی ہیں۔ مثلاً قدیم زمانہ مبنی بر زمین زراعت (land-based agriculture) کا زمانہ تھا، اب مبنی بر ٹیکنالوجی صنعت کا زمانہ ہے۔ قدیم زمانے کی سیاست شخصی اقتدار پر مبنی ہوا کرتی تھی، اب سیاست جمہوریت پر مبنی ہوتی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page