ایم جنس آف اسلام
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۷
ہے۔ قدیم زمانے میں صرف اقتدار کے محدود دائرے سے خراج لینا ممکن ہوتا تھا۔ اب مکمل آزادی کا زمانہ ہے، اب آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ ساری دنیا سے خراج‘‘ لینا ممکن ہو گیا ہے۔ اس فرق کی بنا پر اب ممکن ہو گیا ہے کہ کسی مقصد کا منصوبہ عالمی سطح پر بنایا جائے بغیر اس کے کہ عالمی سطح پر سیاسی اقتدار حاصل ہو۔ اس فرق نے مشن کے تصور میں بنیادی بھی فرق پیدا کر دیا ہے۔ اگر آپ ایک عالمی مشن چلانا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف ایک چیز کی ضرورت ہے، اور وہ ہے ماڈرن ٹکنالوجی پر مبنی پرامن تنظیم۔ مثال کے طور پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دعوتی مکتوب ایران کے بادشاہ کسرىٰ کے نام بھیجا۔ اس مکتوب کو لے کر کسرىٰ کے پاس جانے والے ایک صحابی تھے، جن کا نام عبد اللہ بن حذافہ تھا۔ اس مکتوب کا متن یہ تھا: بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ من محمد رسول الله إلى كسرى عظیم فارس، سلام علی من اتبع الهدى، وآمن بالله ورسوله وشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمد ابعـده ورسوله، وأدعوك بـدعاء الله، فإني أنا رسول الله إلى الناس كافة لأنذر من كان حيا ويحق القول على الكافرين۔ فإن تُسلم تسلم وإن أبيت فإن إثم المجوس عليك (البداية والنهاية لابن کثیر،4/306)۔
تاریخ بتاتی ہے کہ ایران کے قدیم بادشاہ کو جب یہ مکتوب دیا گیا تو وہ غصہ میں آگیا، اور اس کو پھاڑ کر پھینک دیا۔ یہ واقعہ قدیم زمانے کے مروجہ کلچر کی بنا پر ہوا۔ آج اگر کسی تحریک کا سربراہ اس قسم کا خط کسی حکمراں کو بھیجے تو وہ سربراہ جواب میں اس کا اکنوجمنٹ (acknowledgement) بھیجے گا، اور متعلقہ مکتوب اس کے دفتر میں محفوظ کر دیا جائے گا۔
اس صورتِ حال کا تقاضا ہے کہ موجودہ زمانے میں اسلامی مشن کی ری پلاننگ کی جائے ۔ جدید حقائق کی روشنی میں اس کا منصوبہ بنایا جائے۔ اب کسی صاحب مشن کو نہ کسی شکایت کی ضرورت ہے، نہ کسی پروٹسٹ کی۔ اب صرف یہ ضرورت ہے کہ آدمی زمانے کی تبدیلی کو سمجھے، اور اس کی رعایت کرتے ہوئے ، اسلامی مشن کی پرامن ری پلاننگ کرے۔ اسی تبدیل شدہ لائحہ عمل کا نام ری پلاننگ ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues