قرآن کی رہنمائی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۹
فریق ثانی کے مقابلے میں شکست کھا چکے ہیں۔ اس احساس نے ان کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ موجودہ زمانے میں خود کش بمباری جیسے واقعات اسی قسم کی مایوسی کے تحت پیدا شدہ فرسٹریشن کا نتیجہ ہیں۔ اکیسویں صدی میں مسلمانوں کو یہ موقع ہے کہ وہ حدیبیہ کی تاریخ کو دوبارہ نئے عنوان کے ساتھ دہرائیں، اور دوبارہ فتح مبین (الفتح: 1) کی تاریخ کو دہرائیں۔ یہ دوسری فتح مبین بلا شبہ ممکن ہے، لیکن سیاسی معنی میں نہیں، بلکہ غیر سیاسی معنی میں۔ موجودہ زمانے میں صلح حدیبیہ جیسے حالات زیادہ بڑے پیمانے پر وقوع میں آگئے ہیں۔ قدیم زمانے میں جو مواقع محدود طور پر دس سالہ معاہدہ کے ذریعہ حاصل ہوئے تھے، اب وہ یونیورسل نارم (universal norm) بن چکے ہیں۔ اب وہ مواقع خود عالمی حالات کے ذریعہ پیدا ہو چکے ہیں۔ اب اس کی ضرورت نہیں ہے کہ گفت و شنید کے ذریعے کوئی حدیبیہ جیسا متعین معاہدہ کیا جائے۔ اب وہ تمام چیزیں مستقل طور پر عملاً حاصل ہو چکی ہیں، جو قدیم زمانے میں دس سالہ معاہدہ کے ذریعہ محدود طور پر حاصل ہوئے تھے۔ معاہدہ حدیبیہ کیا تھا۔ وہ یہ تھا کہ اہل اسلام کو آزادانہ طور پر اپنا پر امن دعوتی مشن جاری کرنے کا موقع مل جائے۔ اب اقوام متحدہ (UNO) میں تمام قوموں کے مشترک معاہدہ کے تحت ہر قسم کی آزادی کا حق حاصل ہو چکا ہے۔ اب ضرورت صرف یہ ہے کہ مسلمان تشدد کو چھوڑ دیں، اور پرامن طریقہ کار کے ذریعہ اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔
اب کسی قوم کو اپنا سیاسی اقتدار قائم کرنے کی ضرورت نہیں۔ پچھلے زمانے میں جو کام سیاسی اقتدار کے ذریعہ ہوتا تھا، اب وہ تنظیم (organization) کے ذریعہ انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے فوج کشی کرنی پڑتی تھی، اب وہ کام کمیونی کیشن کے ذریعہ انجام دنیا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے کسی بادشاہ کا تخت چھیننا پڑتا تھا، اب وہ سب کچھ یونیورسل نارم کے تحت پر امن طریقہ کار کے ذریعہ انجام دینا ممکن ہو گیا ہے۔ پہلے زمانے میں جس کام کے لیے اپنا سیاسی رقبہ (political area) بڑھانا پڑتا تھا، اب اس کو ایک کمپیوٹرائزڈ آفس میں بیٹھ کر آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ انجام دینا ممکن ہو گیا ہے، وغیرہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues