انسان اول کی مثال
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۰
انسان اول کی مثال
خالق نے جب آدم (پہلے انسان) کو پیدا کیا تو ان کو اور ان کی بیوی حوا کو جنت میں بسایا۔ مگر آدم اپنے عہد پر قائم نہیں رہے۔ انھوں نے منع کرنے کے باوجود شجر ممنوعہ (forbidden tree) کا پھل کھا لیا۔ اس کے بعد ان کو اور ان کی بیوی، دونوں کو جنت سے نکلنا پڑا۔ پھر دونوں کے اندر تو بہ (repentance) کا جذ بہ پیدا ہوا۔ وہ خالق سے معافی کے طالب ہوئے۔ اس کے بعد دونوں کے لیے یہ مقدر کیا گیا کہ اگر وہ ایمان اور عمل صالح کا ثبوت دیں تو ان کو جنت میں دوبارہ داخلہ (re-entry) ملے گی۔
اس کا مطلب بظاہر یہ تھا کہ ابتدائی منصوبہ کے مطابق جنت تمام انسانوں کے لیے عمومی طور پر مقدر کی گئی تھی۔ لیکن جب آدم اپنے عہد پر قائم نہیں رہے، اور انھوں نے وہ کام کیا جس سے انھیں منع کیا گیا تھا، تو خالق نے انسان کے بارے میں دوسرا اصول مقرر کیا۔ یہ اصول انتخاب (selection) کی بنیاد پر تھا۔ یعنی پہلے اگر ہر مرد اور ہر عورت کے لیے جنت کا حصول ممکن تھا، تو اب یہ اصول قرار پایا کہ جو عورت اور مرد امتحان (test) میں پورے اتریں ۔ ان کا انتخاب کر کے ان کو جنت میں داخلہ دیا جائے، اور جو لوگ امتحان میں پورے نہ اتریں، وہ ہمیشہ کے لیے جنت سے محروم قرار پائیں گے۔ یہ واقعہ انسان کے لیے ایک ابدی سبق تھا۔ اب انسان کے لیے کامیابی کا راستہ صرف یہ تھا کہ اگر اس کا پہلا منصوبہ کام (work) نہ کرے تو وہ کسی غیر متعلق مشغولیت میں اپنا وقت ضائع نہ کرے ۔ وہ صرف ایک کام کرے ۔ حالات کا از سر نو جائزہ لینا، اور اپنے عمل کو نئے منصوبہ کے تحت دوبارہ مرتب کرنا۔
یہ واقعہ انسانی تاریخ کے آغاز میں پیش آیا۔ اس طرح خالق نے انسان کو یہ سبق دیا کہ دنیا کے حالات میں بار بار ایسا ہوگا کہ تم کسی نہ کسی سبب سے پہلے موقع (1st chance) کو کھو دو گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues