Al-Risala · January 2017 · page 32

قرآن اور عصرِ جدید

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۲

قرآن اور عصرِ جدید

قرآن ساتویں صدی کے ربع اول میں اترا۔ قرآن کا مقصدِ انسانیت کی اصلاح تھا۔ اپنے زمانے کے اعتبار سے قرآن میں جن مختلف گروہوں کو ایڈریس کیا گیا ہے، وہ عملاً 4 قسم کے گروہ ہیں— یہود، عیسائی، مشرک اور کافر۔ اگر کوئی شخص قرآن کو پڑھے تو وہ پائے گا کہ یہ چاروں گروہ قرآن کی دعوت کے بارے میں منفی (negative) ذہن رکھتے ہیں۔ چناں چہ قرآن میں ان کے اوپر سخت تنقید کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ بعض اوقات ان کے سخت ردعمل کی بنا پر جنگ کی نوبت آگئی۔ بعد کے زمانے کے مسلمان جب قرآن کو پڑھتے ہیں تو وہ قرآن میں ان چاروں گروہوں کا ذکر پاتے ہیں۔ کیوں کہ چاروں گروہوں کے بارے میں ان کے عصری رویہ کی بنا پر سخت تبصرے کیے گیے ہیں۔ قرآن کے یہ سخت تبصرے زمانی سبب (age factor) کی بنا پر ہیں۔ لیکن مسلمان غیر شعوری طور پر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ یہ طبقات آج بھی باقی ہیں، اور ان کے بارے میں آج بھی ان کا وہی سخت رویہ ہونا چاہیے، جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں تھا۔

موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ تمام قوموں کے خلاف لڑائی چھیڑے ہوئے ہیں۔ کبھی passive sense میں اور کبھی active sense میں۔ وہ یہود کو مغضوب قوم سمجھتے ہیں، نصاریٰ کو ضال قوم سمجھتے ہیں، وہ مفروضہ کافروں کو جہنمی سمجھتے ہیں، اور اس طرح مشرکوں کو اعتقادی معنوں میں سراسر باطل سمجھتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہی مزاج (mindset) ہے جس نے ان کو ساری دنیا کا مخالف بنا دیا ہے۔ ان کا نشانہ یہ بن گیا ہے کہ تمام قوموں سے لڑ کر ان کو مغلوب کرنا ہے اور ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی اقتدار قائم کرنا ہے۔ مسلمانوں کی یہ سوچ تمام تر ان کی غلط فکری کا نتیجہ ہے۔ ساتویں صدی میں عرب یا اطراف عرب میں جو قومیں موجود تھیں، وہ سب بہت پہلے ختم ہوچکیں ۔ اب ان کے نام سے جو قومیں دنیا میں موجود ہیں، وہ خواہ نام کے اعتبار سے قدیم ہوں، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ جدید ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page