Al-Risala · January 2017 · page 33

قرآن اور عصرِ جدید

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۳

جدید دور ایک اعتبار سے ڈی کنڈیشنگ کا دور (age of deconditioning) ہے۔ جدید دور میں نئے افکار خاص طور پر سیکولر ایجوکیشن نے مکمل طور پر لوگوں کے ذہنوں کو بدل دیا ہے۔ آج کا یہودی مختلف یہودی ہے، آج کا عیسائی مختلف عیسائی ہے۔ اس طرح آج کے مشترک مختلف قسم کے مشترک ہیں۔ یہ قوم میں اب اتنا زیادہ بدل چکی ہے کہ ان کو وہی سمجھ سکتا ہے، جس نے انھیں دوبارہ دریافت (rediscover) کیا ہو۔

قدیم زمانہ کے اعتبار سے یہ لوگ 4 مختلف قوم تھے۔ لیکن جدید زمانہ کے اعتبار سے یہ سب ایک ہی قوم ہیں۔ سب پر ایک ہی لفظ منطبق ہوتا ہے، اور وہ ہے جدید انسان۔ قدیم زمانہ کے انسان کے برعکس جدید دور کے انسان کے اندر اصولی طور پر کٹر پن اور تعصب ختم ہو چکا ہے۔ قدیم زمانہ میں ساری دنیا میں ہم اور وہ (we and they) کا تصور (concept) رائج تھا۔ اب آج کی دنیا میں عمومی طور پر ہم اور ہم (we and we) کا concept رائج ہو چکا ہے۔

اس صورت حال نے قدیم مساوات (equation) کا خاتمہ کر دیا ہے۔ قدیم زمانہ میں دوست اور دشمن (friend and enemy) کا تصور پھیلا ہوا تھا۔ اب یہ ثنویت (dichotomy) ختم ہو چکی ہے۔ آج دنیا میں جس مساوات کا غلبہ ہے، وہ دوست اور مؤید (supporter) کا ہے۔ آج کی دنیا میں کوئی کسی کا دشمن نہیں۔ آج کی دنیا میں کوئی شخص یا تو آپ کا دوست ہوگا اور اگر دوست نہ ہو تو وہ آپ کا مؤید ہوگا۔ گویا جس دور کی پیشین گوئی حدیث میں کی گئی تھی، وہ اب واقعہ بن چکی ہے۔

ان روایتوں میں مستقبل کے جس واقعہ کو دین کی نسبت سے بیان کیا گیا ہے، وہ حقیقتاً ساری انسانیت کی نسبت سے ہے۔ یعنی مستقبل میں ایک ایسا زمانہ آئے گا، جب کہ دشمنی کا دور اصولی طور پر ختم ہو جائے گا۔ دور کے تقاضے کی بنا پر لوگ ایک دوسرے کے دوست ہوں گے۔ اور اگر دوست نہ ہوں گے تو وہ امکانی طور پر ایک دوسرے کے مؤید بن جائیں گے۔

اسلام سے پہلے ہزاروں سال سے دنیا میں جو کلچر رائج تھا، وہ یہ تھا۔ جو میرا دوست نہیں،

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page