Al-Risala · July 2017 · page 13

ڈیزرٹ تھرپی

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۳

آخر کار پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبے کے مطابق عراق کو چھوڑ دیا۔ وہ اُس صحرائی علاقے میں آکر آباد ہوئے جہاں اب مکہ واقع ہے۔ انھوں نے اس صحرائی علاقہ میں اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو آباد کر دیا۔ جب کہ اس وقت وہاں صحرا کے سوا کچھ نہ تھا۔

اس نئی منصوبہ بندی کو ایک لفظ میں صحرائی منصوبہ بندی (desert therapy) کہا جاسکتا ہے۔ یہ صحرائی ماحول اگرچہ انسانی آبادی کے لیے انتہائی حد تک غیر موافق تھا۔ مگر نئی پلاننگ کے لیے یہ سب سے زیادہ موزوں علاقہ تھا۔ اس صحرائی ماحول میں فطری طور پر ایسا ہوا کہ ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تمدن کے اثرات سے دور تھی، اور فطرت کے ماحول کے سوا کوئی اور چیز اس پر اثر انداز ہونے کے لیے موجود نہ تھی۔ فطرت کے اس ماحول میں اسماعیل ابن ابراہیم نے ایک قبیلہ میں شادی کی، اور پھر توالد و تناسل کے ذریعہ یہاں ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی۔ اس صحرائی منصوبہ بندی کا ذکر حدیث میں ایک طویل روایت (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3364) کے تحت کیا گیا ہے۔ یہ ابراہیمی سنت ایک منصوبے کے بعد دوسرا منصوبہ بنانے کا معاملہ تھا۔ اس کے ذریعہ یہ مطلوب تھا کہ ایک نئی جاندار نسل تیار ہو، جو اپنی فطرت پر قائم ہو، اور اس بنا پر وہ سچائی کے پیغام کو آسانی کے ساتھ سمجھ جائے، اور اس کو اختیار کر لے۔ یہی وہ نسل ہے جس کے اندر پیغمبر اسلام محمد بن عبداللہ پیدا ہوئے۔ وہ لوگ جن کو اصحاب رسول کہا جاتا ہے، وہ سب اسی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔

توقع کے مطابق یہ منصوبہ کامیاب رہا۔ رسول اور اصحاب رسول نے دعوتی جدوجہد کے ذریعہ ایک گروہ تیار کیا۔ اس گروہ نے توحید کی بنیاد پر کام کر کے ایک انقلاب برپا کیا۔ اس گروہ نے تاریخ میں ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ ان کی قربانیوں کے نتیجے میں یہ ہوا کہ پہلی بار انسانی تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوا، جس نے تاریخ کو بدل دیا۔ اس عمل کے نتیجے میں ایک طرف دور شرک کا خاتمہ ہوا۔ اسی کے ساتھ دوسری طرف اس کے نتیجے میں نیچر میں آزادانہ تحقیق کا مزاج پیدا ہوا، اس کے بعد تاریخ میں وہ دور آیا جس کو جدید تہذیب (modern civilization) کہا جاتا ہے۔ تاریخ میں یہ انقلاب ری پلاننگ کے ذریعہ ظہور میں آیا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page