ڈیزرٹ تھرپی
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۲
ڈیزرٹ تھرپی
اللہ رب العالمین نے انسان کو پیدا کرکے کرۂ ارض (planet earth) پر آباد کیا۔ اس کو ہر قسم کے مواقع فراہم کیے۔ اور پھر اس کو پوری آزادی دے دی۔ اب یہ انسان کا اپنا اختیار ہے کہ وہ خواہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کر کے اپنے آپ کو ابدی کامیابی کا مستحق بنائے، اور اگر وہ اپنی آزادی کا غلط استعمال (misuse) کرتا ہے تو اس کے لیے تخلیقی منصوبہ کے مطابق ابدی ناکامی کے سوا کچھ اور مقدر نہیں۔
اللہ رب العالمین نے انسان کو عقل دی۔ اس کے اندر حق اور باطل کی تمیز رکھی۔ اس کے بعد خالق نے یہ انتظام کیا کہ ہر قوم میں اور ہر ہر علاقے میں اپنے رسول بھیجے۔ جو انسان کو اس کی اپنی قابل فہم زبان میں حق اور ناحق کا علم دیتے تھے۔ پیغمبروں نے یہ کام اعلیٰ اتمام حجت کی سطح پر انجام دیا۔ مگر انسان نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ پیغمبروں کی دعوت کا غیر مطلوب جواب دیا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: يَا حَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُونَ (36:30)۔ یعنی افسوس ہے بندوں کے اوپر، جو رسول بھی ان کے پاس آیا وہ اس کا مذاق ہی اڑاتے رہے۔
اللہ رب العالمین کو اپنے نقشۂ تخلیق (creation plan) کے مطابق یہ منظور نہیں تھا کہ وہ انسان کی آزادی کا خاتمہ کر دے۔ اس لیے اس نے یہ کیا کہ انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، ہدایت کا ایک نیا نقشہ بنایا۔ اس نئے نقشے کی تکمیل کے لیے اللہ رب العالمین نے ابراہیم اور ان کی ذریت کو چنا۔ جن کا زمانہ 2324–1850 ق م کے درمیان ہے۔ یہ گویا رب العالمین کی طرف سے ہدایت کی ری پلاننگ کا معاملہ تھا۔
پیغمبر ابراہیم قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ وہاں انھوں نے لوگوں کو سچائی کا راستہ دکھایا۔ لیکن قدیم عراق کے باشندے جو اس وقت شرک پر قائم تھے، پیغمبر ابراہیم کی پیروی پر راضی نہ ہو سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues