متعلق اور غیر متعلق میں فرق کرنا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۱۹
تمہاری قوم کا کفر کا زمانہ ابھی حال ہی میں نہ گزرا ہوتا تو میں ایسا کر دیتا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کی توجیہ ابن حجر العسقلانی نے ان الفاظ میں کی ہے: رعاية لقلوب قريش (فتح الباری، یعنی قریش کے قلوب کی رعایت میں ایسا کیا۔
اصل یہ ہے کہ مذہب کے معاملے میں لوگ بہت حساس ہوتے ہیں۔ جب کسی مذہبی یادگار پر لمبی مدت گزر جائے تو لوگوں کی نظر میں وہ مقدس بن جاتی ہے۔ اس میں ادنی تغیر کو وہ برداشت نہیں کرتے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اگر کعبہ کی عمارت میں تغیر کرتے تو اندیشہ تھا کہ لوگ اس کا تحمل نہ کر سکیں گے، اور اس کا منفی نتیجہ بر آمد ہوگا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ عرب میں توحید کا دین قائم کرنے کا جو عمل جاری ہے، وہ درمیان میں چیر ڈائز (jeopardize) ہو جائے گا، اور اصل مشن کو سخت نقصان پہنچے گا۔
اسلام میں رعایت عوام کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اس کو قرآن میں تالیف قلب (التوبہ: 60) کہا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیف قلب اسلام کا ایک اہم اصول ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوتی مشن کے دوران ہمیشہ متعلق (relevant) اور غیر متعلق (irrelevant) کے درمیان فرق کیا۔ آپ نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ ایک غیر اہم چیز کی خاطر آپ اہم کو نظر انداز کر دیں۔ آپ کے سامنے ہمیشہ اصل نشانہ ہوتا تھا، اور جو چیز اصل نشانے کی نسبت سے غیر اہم ہو، اس کو آپ ہمیشہ نظر انداز کر کے اصل نشانے پر قائم رہتے تھے۔ یہ اصول ایک دائمی اصول ہے، اور اسی اصول کا نام وزڈم ہے۔ پیغمبر اسلام کی سیرت کا مطالعہ کرنے کے بعد راقم الحروف نے وزڈم کی یہ تعریف دریافت کی ہے: Wisdom is the ability to discover the relevant after sorting out the irrelevant. ڈاکٹر مائیکل ہارٹ (Dr. Michael H Hart) نے اپنی کتاب دی ہنڈریڈ (100 The) میں بتایا ہے کہ پیغمبر اسلام تاریخ کے سب سے زیادہ کامیاب انسان تھے۔ آپ کی اس عظیم کامیابی کا راز یہی تھا۔ آپ نے اپنے مشن میں ہمیشہ اس وزڈم کو اختیار کیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues