عملی تقاضا
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۰
عملی تقاضا
اسلام میں شورائی سیاست کا نظام اختیار کیا گیا ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت (democracy) کہا جاتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد اسی اصول کی بنیاد پر خلافت کا نظام قائم ہوا۔ مگر تقریباً تیس سال کے بعد لوگوں کو محسوس ہوا کہ خلافت کا نظام عملاً ورک (work) نہیں کر رہا ہے۔ سیاست میں اصل چیز استحکام (stability) ہے۔ مگر خلافت کے نظام کے تحت استحکام کا یہ مقصد حاصل نہ ہوسکا۔ چناں چہ چوتھے خلیفہ علی ابن طالب کے بعد مسلم دنیا میں خاندانی حکومت (dynasty) کا طریقہ رائج ہو گیا، اور بعد کی تمام صدیوں میں عملاً مسلمانوں کے درمیان یہی نظام رائج رہا۔
خاندانی بادشاہت کا نظام جب شروع ہوا، اس وقت صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے ۔ اس کے بعد محدثین، فقہاء، اور علماء متقدمین کا دور آیا۔ ان تمام لوگوں نے عملاً اس سیاسی تبدیلی کو قبول کر لیا۔ اس کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ اسلام میں سیاست کا اصل مقصود سماجی استحکام (social stability) ہے۔ یہ استحکام خلافت کے نظام کے تحت حاصل نہیں ہو رہا تھا۔ لیکن خاندانی حکومت کے تحت وہ حاصل ہو گیا۔ اس لیے پریکٹکل وزڈم کے اصول پر اس کو قبول کر لیا گیا۔ یہ بھی ری پلاننگ کا ایک کیس تھا۔ اسلام کے پہلے دور میں خلافت کا نظام قائم کیا گیا۔ لیکن تجربے سے معلوم ہوا کہ خلافت کا نظام ورک (work) نہیں کر رہا ہے۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلی تاریخ کے نتیجے میں لوگوں کا یہ ذہن بن گیا تھا کہ حاکم کے بعد حاکم کی اولاد کو حقِ حکومت (right to rule) حاصل ہوتا ہے۔ اس وقت تک یہ رواج ختم نہیں ہوا تھا۔ اس لیے پرکٹکل وزڈم کا تقاضا تھا کہ خاندانی حکومت کے نظام کو اختیار کر لیا جائے۔ تاکہ کم از کم سیاسی استحکام (political stability) کا مقصد حاصل ہو جائے۔ اس لیے عملی سبب (practical reason)، نہ کہ نظری سبب (theoretical reason) کے تحت خاندانی سیاست کا نظام اختیار کر لیا گیا۔ یہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues