تاتاری حملے کا واقعہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۲
تاتاری حملے کا واقعہ
تیرھویں صدی میں وسط ایشیا (Central Asia) میں خوارزم کی حکومت تھی۔ منگول سردار چنگیز خاں نے اپنا سفیر سلطان علاء الدین شاہ کے دربار میں بھیجا۔ سلطان نے کسی غلط فہمی کی بنا پر تاتاری سفیر کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد چنگیز خان کا غصہ بھڑک اٹھا۔ اس نے قبائل کی فوج کے ساتھ مسلم سلطنت پر حملہ کر دیا، اور اس کے پوتے ہلا کو خاں نے تکمیل تک پہنچایا۔ اور سمر قند سے لے کر حلب تک مسلم دنیا کو تاراج کر دیا۔
مورخ ابن اثیر نے اس واقعہ کو مسلم تاریخ کا سب سے بھیانک واقعہ قرار دیا ہے۔ اس کے بعد مسلم دنیا میں جوابی کارروائی کا ذہن ابھرا۔ سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ یہاں تک کہ 1260 میں عین جالوت کی لڑائی پیش آئی۔ اس لڑائی سے اس وقت کے مسلمانوں کو جزئی فائدہ ہوا، لیکن وہ تاتاریوں کو مسلم دنیا سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ مسلم دنیا میں یہ کہا جانے لگا: من حدثكم أن التتر انهزموا وأسروا فلا تصدقوه (الكامل فی التاریخ، 10/353) ۔ یعنی جو تم سے بیان کرے کہ تاتاری شکست کھا گئے اور قید کر لیے گئے تو اس کی تصدیق نہ کرو۔ اس زمانے میں کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوا، جو شعوری اعتبار سے مسلمانوں کو ری پلاننگ کا پیغام دے۔ تاہم حالات کا دباؤ (pressure) بھی ایک معلم ہوتا ہے۔ چنانچہ حالات کا معلم ظاہر ہوا، اور ایسے اسباب پیدا ہوئے، جن کے نتیجے میں اس زمانے کے مسلمانوں میں ایک نیا خاموش عمل (process) جاری ہو گیا۔ یہ عمل اگر چہ بظاہر حالات کا نتیجہ تھا، لیکن عملاً وہ وہی چیز بن گیا جس کو ہم نے ری پلاننگ کہا ہے۔ یعنی بے فائدہ جنگ کو چھوڑ کر پر امن دعوت کا طریقہ اختیار کرنا۔ اس موضوع پر برٹش مصنف ٹی ڈبلیو آرنلڈ (1930-1864) نے گہری تحقیق کی ہے۔ طویل تحقیق کے بعد انھوں نے ایک کتاب لکھی، جو 388 صفحات پر مشتمل ہے اور پہلی بار 1896 میں چھپی۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues