Al-Risala · July 2017 · page 21

عملی تقاضا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۱

ری پلاننگ کی ایک مثال ہے۔ تاریخ کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ اس معاملے میں دور اول میں لیا ہواری پلاننگ کا فیصلہ باعتبار حقیقت بالکل درست تھا۔

ری پلاننگ کے معاملے کا تعلق اصول (principle) سے نہیں ہے، بلکہ اس کا تعلق طریق کار(method) سے ہے۔ طریق کار کبھی مطلق (absolute) نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کا تعین ہمیشہ عملی افادیت(pragmatism) کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ حضرت عائشہ کی مشہور روایت ہے : ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، أحدهما أيسر من الآخر، إلا اختار أيسر هما (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2327)۔ یہاں ایسر کا لفظی مطلب ہے آسان۔ یہاں آسان طریقہ سے مراد وہ طریقہ ہے جو با آسانی قابل عمل ہو۔ یعنی وہ طریقہ جو کوئی نیا مسئلہ پیدا نہ کرے، جس پر غیر نزاعی (non-controversial) انداز میں عمل کرنا ممکن ہو۔

اس حدیث سے کامیاب منصوبہ بندی کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ وہ منصوبہ پوری طرح قابل عمل ہو۔ وہ کوئی نزاع پیدا کرنے والا نہ ہو۔ وہ ایک نتیجہ خیز طریقہ کار ہو۔ ایسا نہ ہو کہ کہنے میں تو وہ ایک خوبصورت بات معلوم ہو، لیکن جب اس کو عمل میں لایا جائے تو وہ صرف مسائل میں اضافہ کرنے کا سبب بن جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ پہلے منصوبہ میں اس تجربے کا موقع ہوتا ہے کہ کیا چیز قابل عمل (workable) ہے، اور کیا چیز قابل عمل نہیں۔ اس لحاظ سے دوسرے منصوبہ کا فائدہ یہ ہے کہ بے نتیجہ عمل سے اپنے کو بچایا جائے، اور صرف نتیجہ خیز پہلوؤں کو سامنے رکھ کر اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ تا کہ پہلا منصوبہ اگر بے نتیجہ ثابت ہوا تھا تو دوسرا منصوبہ نتیجہ خیز ثابت ہو۔ جو مقصد اگر پہلے منصوبہ میں نہیں ملا تھا تو اس کو دوسرے منصوبہ کے تحت حاصل کر لیا جائے۔ اس کے مطابق یہ کہنا صحیح ہوگا کہ پہلے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی ہوسکتی ہے۔ لیکن دوسرے منصوبہ کے وقت غلطی قابل معافی نہیں۔ اس اعتبار سے دوسرے منصوبہ کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس کو شروع کیا جائے۔ غلطی کا کھلا اعتراف کیے بغیر دوسری منصوبہ بندی سرے سے منصوبہ بندی ہی نہیں، بلکہ وہ نقصان میں اضافہ کے ہم معنی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page