The Evidence of God in an Expanding Universe
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۷
یہ کتاب پہلی بار 1958 میں امریکا سے چھپی ہے۔ اس کے بعد اس کتاب کا عربی ترجمہ اللہ یتجلی فی عصر العلم (1987، مصر) کے نام سے چھپا۔ اس موضوع پر ایک اور قابلِ ذکر کتاب قرآن بائبل اور سائنس (The Bible, the Quran, and Science) ہے۔ یہ کتاب اولا ڈاکٹر ماریس بوکائی نے فرانسیسی زبان میں تیار کی۔ اس کے بعد اس کتاب کا ترجمہ انگریزی و دیگر زبانوں میں ہوا۔ عربی زبان میں اس کتاب کا ترجمہ چھپ چکا ہے۔ اس کا ٹائٹل ہے : التوراة والإنجيل والقرآن والعلم (بيروت، 1407ھ)۔ تاہم اس کام کی تکمیل کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
جدید سائنسی تحقیقات سے جو باتیں معلوم ہوئی ہیں، وہ ہم کو ایک نیا فریم ورک (framework) دے رہی ہیں۔ اس فریم ورک کو استعمال کرتے ہوئے، یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اسلام کی تعلیمات کو وقت کے مسلمہ علمی معیار پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔
جدید سائنس اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کا علمِ کلام ہے۔ جدید سائنس نے وہ ڈیٹا (data) فراہم کر دیا ہے جس کی بنیاد پر اسلام کی تعلیمات کو وقت کے مسلمہ معیار کی بنیاد پر پیش کیا جائے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو جدید سائنسی دور قرآن کی ایک آیت کی پیشین گوئی کا واقعہ بننا ہے۔ وہ آیت یہ ہے : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ حق ہے۔
قرآن کی اس آیت میں آفاق و انفس کی نشانیوں کے ظہور سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں سائنسی مطالعہ کے ذریعہ فطرت کے قوانین (laws of nature) دریافت ہوں گے، اور ان دریافتوں کے ذریعے یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلامی حقیقتوں کو اعلیٰ عقلی معیار پر ثابت شدہ بنایا جا سکے۔ دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ مستقبل میں ایسی حقیقتوں کی دریافت ہوگی، جن کی بنیاد پر یہ ممکن ہو جائے گا کہ اسلامی علمِ کلام کو وقت کے مسلمہ اصولوں کی بنیاد پر مدوّن کیا جا سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues