Al-Risala · July 2017 · page 28

دانش مندی کی ضرورت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۲۸

دانش مندی کی ضرورت

ایک حدیث مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: الكلمة الحكمة ضالة المؤمن، فحيث وجدها فهو أحق بها (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2687)۔ یعنی حکمت کی بات مومن کی گم شدہ چیز ہے، وہ جہاں اس کو پائے اس کو لے لے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حکمت کی بات کوئی مذہبی عقیدے کی بات نہیں۔ ہر انسان اس کو کہیں سے بھی لے سکتا ہے، اور اس کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ یہ تعلیم بہت زیادہ اہم ہے۔ اس سے ری پلاننگ کا دائرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی گروہ کے لیے ری پلاننگ کا وقت آئے تو وہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق نہ کرے۔ وہ ہر حکمت کو خود اپنی چیز سمجھے۔ وہ ہر حکمت کو استعمال کرتے ہوئے اپنے عمل کی ری پلاننگ کرے۔

ری پلاننگ کے اصول کو پیشگی طور پر متعین نہیں کیا جا سکتا۔ ری پلاننگ ہمیشہ بدلے ہوئے حالات میں کی جاتی ہے۔ اور بدلے ہوئے حالات کو سمجھنے کا تعلق عقیدہ سے نہیں ہے، بلکہ فہم و بصیرت سے ہے۔ ہر آدمی کو یہ حق ہے کہ وہ اپنی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے حالات کا بے لاگ جائزہ لے۔ وہ فطرت کے اٹل اصولوں کی معنویت کو دوبارہ دریافت کرے۔ اس طرح یہ ممکن ہوگا کہ وہ فطرت کے نظام میں کوئی خلل ڈالے بغیر اپنے مقصد کی تکمیل کر سکے۔ اس اصول کی مثال خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں موجود ہے۔ ہجرت کے پانچویں سال جب کہ پیغمبر اسلام مدینہ میں تھے، آپ کو معلوم ہوا کہ قریش کے لیڈر تمام عرب سے بارہ ہزار کا لشکر لے کر مدینہ پر حملہ کرنے والے ہیں۔ آپ نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ لڑائی کے بغیر اس مسئلے کو کیسے حل کیا جائے۔ آپ کے ساتھیوں میں ایک سلمان فارسی تھے، جو ایران سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں جب بادشاہ لوگ جنگ کو اوائڈ (avoid) کرنا چاہتے ہیں تو وہ اپنے اور مخالف کے درمیان خندق (trench) کھود دیتے ہیں۔ اس طرح

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page