دور جدید
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۰
دور جدید
دور جدید کہے مسلمانوں کا ایک مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہت بڑے پیمانے پر اس ذہنیت کا شکار ہیں، جس کو انا کرونزم (anachronism) کہا جاتا ہے، یعنی خلاف زمانہ حرکت۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ان کو ماضی سے کام کا جو ماڈل وراثتی طور پر ملا ہے، وہ ابھی تک اس سے باہر نہیں آئے۔ وہ زمانے سے بے خبری کی بنا پر قدیم ماڈل کو جدید دور میں دہرا رہے ہیں۔ مگر یہ طریقہ کوئی مثبت نتیجہ پیدا کرنے والا نہیں۔
مثلاً قدیم زمانے میں اصلاح کے لیے فتویٰ کی زبان رائج تھی۔ آج کے علماء بدستور اسی ماڈل کو اختیار کیے ہوئے ہیں۔ اسی بنا پر وہ تکفیر کا طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ وہ جس کو غلط سمجھتے ہیں، اس کے خلاف کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں، اور اس کو قابل گردن زدنی ہونے کا اعلان کرتے ہیں۔ حالاں کہ اب کسی بھی درجے میں ان طریقوں سے کوئی اصلاح ہونے والی نہیں۔ یہ زمانہ عقلی استدلال (rational argument) کا زمانہ ہے۔ اب آج کے لوگوں کے لیے صرف عقلی استدلال مؤثر ہوسکتا ہے۔ موجودہ زمانے میں فتویٰ کی زبان ورک (work) کرنے والی نہیں۔ اسی طرح موجودہ زمانے کے مسلمان بڑے پیمانے پر اسلامی مقصد حاصل کرنے لیے جہاد کے نام پر تشدد کی تحریکیں چلا رہے ہیں۔ حالاں کہ اب وہ زمانہ ختم ہو چکا ہے جب کہ تشدد کا طریقہ مؤثر ہوا کرتا تھا۔ موجودہ زمانے میں کسی بھی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے امن کا طریقہ پوری طرح کافی ہے۔ اسی طرح مسلمانوں کا ایک طبقہ اسلام کی اشاعت کے نام پر مناظرہ (debate) کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ حالاں کہ موجودہ زمانے میں مناظرہ کا طریقہ ایک متروک طریقہ بن چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس کام کے لیے ڈسکشن اور ڈائیلاگ کی اہمیت ہے، نہ ک ڈیبیٹ کی۔ اسی طرح بہت سے مسلم رہنما امت کی ترقی کے لیے احتجاجی صحافت اور احتجاجی قیادت کے ماڈل پر کام کر رہے ہیں، مگر ان کو معلوم نہیں کہ صحافت اور قیادت کے لیے یہ ماڈل اب آخری حد تک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues