دور جدید
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۱
بے اثر ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے میں احتجاجی صحافت اور احتجاجی قیادت صرف وقت ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت کے اعتبار سے وہ کوئی کام ہی نہیں، وغیرہ۔
موجودہ زمانے میں جو مسلم رہنما امت کے کاز (cause) کے لیے کام کرنے اٹھے، وہ صرف اپنے داخلی جذبہ کے تحت اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے باقاعدہ مطالعے کے ذریعہ یہ جاننے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی کہ موجودہ زمانہ کیا ہے، اور موجودہ زمانے میں کوئی کام مؤثر طور پر کیسے کیا جا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کو صرف ایک کتاب کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔ اس کتاب کا ٹائٹل یہ ہے: The Great Intellectual Revolution, by John Frederick West (1965, pp 132)
مسلم رہنماؤں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ وہ دورِ جدید کو دشمنِ اسلام دور سمجھتے ہیں۔ یہ سرتاسر بے بنیاد بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دورِ جدید پورے معنوں میں ایک موافق اسلام دور ہے۔ وہ اس حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایک زمانہ آئے گا، جب کہ غیر مسلم قومیں اسلام کی مؤید (supporter) بن جائیں گی (مسند احمد، حدیث نمبر 20454)۔
یہ خود اللہ رب العالمین کے منصوبے کا معاملہ ہے۔ پیغمبرِ اسلام کے ظہور سے تقریباً ڈھائی ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم کے ذریعہ ایک منصوبہ جاری کیا گیا تھا۔ جس کو مبنی بر صحرا منصوبہ (desert-based planning) کہا جا سکتا ہے۔ اس منصوبے کے ذریعہ عرب میں ایک ٹیم تیار ہوئی۔ یہ ٹیم موافقِ اسلام ٹیم تھی۔ اس ٹیم پر عمل کر کے پیغمبرِ اسلام نے اصحابِ رسول کو تیار کیا، جن کو قرآن میں خیر امت (آل عمران: 101) کہا گیا ہے۔ اسی طرح ساتویں صدی عیسوی میں رسول اور اصحابِ رسول کی جدوجہد کے ذریعہ ایک نیا تاریخی عمل (historical process) جاری ہوا۔ اس عمل کے سیکولر نتیجے کے طور پر جدید تہذیب (modern civilization) وجود میں آئی۔ یہ تہذیب اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک موافق اسلام تہذیب تھی۔ مگر مسلم رہنما اس راز کو نہ سمجھ سکے، اور غیر ضروری طور پر انھوں نے اس کے خلاف لڑائی چھیڑ دی۔ حالاں کہ ضرورت تھی کہ اس تہذیب کی بنیاد پر اسلامی مشن کی نئی پلاننگ کی جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues