Al-Risala · July 2017 · page 35

ویٹی کن ماڈل

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۵

مذہبی تنظیم (religious organization) قائم کریں۔ وہ ایک مرکزی اتھارٹی کے تحت ساری دنیا میں منظم طور پر اپنے مذہب کا کام کرسکیں۔ یہ وہی حکمت تھی جس کو قرآن میں احدی الحسنیین (التوبہ: 52) کہا گیا ہے۔ یعنی دوبہتر میں سے ایک (one of the two bests) کا انتخاب کرنا۔ موجودہ زمانے میں مسلمان اپنی محرومی کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ محرومی کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ زمانی حقائق سے بے خبری کا معاملہ ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کو بار بار یہ موقع ملا کہ وہ ”ویٹیکن ماڈل“ کے مطابق اپنے لیے دوسرا بہتر (second best) حاصل کر لیں۔ لیکن مسلمانوں کے رہنما اپنی غیر دانشمندی کی بنا پر اس موقع کو اویل (avail) نہ کر سکے۔ مثلاً بیسویں صدی کے ربع اول میں جب یہ واضح ہو گیا کہ عثمانی خلافت کا سیاسی ادارہ باقی نہیں رہ سکتا۔ تو مسلم رہنماؤں کے لیے یہ موقع تھا کہ گفت و شنید کے ذریعہ وہ دوسرے بہتر (second best) پر راضی ہو جائیں۔ یعنی خلافت کے نام سے ترکی کے کسی علاقہ، مثلاً قسطنطنیہ کے ایک محدود رقبہ کو حاصل کر لیں، اور وہاں ویٹیکن جیسا ایک ادارہ بنا کر خلیفہ کے ٹائٹل کو بدستور باقی رکھیں۔ یہ مسلم رہنماؤں کے لیے اپنے مسئلے کی ری پلاننگ کا ایک موقع تھا۔ مگر اس وقت کے مسلم رہنما اس معاملے میں حقیقت شناسی کا ثبوت نہ دے سکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خلافت کا ٹائٹل ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ اسی طرح 1952 میں جب مصر کے شاہ فاروق کی حکومت ختم ہوئی، اور مصر میں فوجی حکومت قائم ہوئی تو اس وقت الاخوان المسلمون کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے حکومت میں وزارت تعلیم (Education Ministry) کی پیش کش کی، مگر الاخوان المسلمون کے رہنماؤں نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح پاکستان کے صدر محمد ایوب خان نے 1962 میں جماعت اسلامی پاکستان کو یہ پیش کش کی کہ پاکستان میں ایک بین اقوامی یونیورسٹی قائم کی جائے، اور اس کا مکمل چارج جماعت اسلامی پاکستان کو دے دیا جائے۔ مگر جماعت اسلامی پاکستان کے ذمہ داران نے اس پیش کش کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ یہ سب ری پلاننگ میں ناکامی کا معاملہ ہے، اور یہی ناکامی موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے تمام مسائل کی اصل ذمہ دار ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page