Al-Risala · July 2017 · page 36

اسپین کا تجربہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۶

اسپین کا تجربہ

عرب مسلمان آٹھویں صدی عیسوی میں اسپین میں داخل ہوئے۔ یہاں انھوں نے اسپین کے ایک حصے میں اپنی حکومت قائم کی۔ اسپین کے اس حصے کو الا ندلس کہا جاتا ہے۔ یہ حکومت نشیب وفراز کے ساتھ تقریباً آٹھ سو سال تک جاری رہی۔ آخری دور میں عرب مسلمانوں کے خلاف سیاسی رد عمل ہوا۔ ایک خونی جنگ کے بعد عرب مسلمان اسپین سے مکمل طور پر نکال دیے گئے ۔ مگر اب صورت حال بدل گئی ہے۔ اسپین کی قدیم تاریخ میں پہلے عرب مسلمانوں کو حملہ آور (invader) کی حیثیت سے لکھا گیا تھا۔ مگر اب اسپین میں نئی تاریخ لکھی گئی ہے، جو عرب دور کے اسپین کو خود اسپین کی تاریخ کا ایک حصہ قرار دیتی ہے۔ اس نئے دور کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ اسپین کے ساحل پر عرب رولر عبدالرحمن الداخل کا اسٹیچو دوبارہ نصب کیا گیا ہے، جو تلوار لیے ہوئے بظاہر فاتح کی حیثیت سے کھڑا ہے۔ یہ اسٹیچو 1984 میں تیار کیا گیا تھا : Abd al-Rahman I landed at Almunecar in al-Andalus, to the east of Malaga, in September 755. The statue was created in 1984. اسپین میں یہ انقلاب کیسے آیا۔ اصل یہ ہے کہ آٹھویں صدی عیسوی میں سیاسی حکمرانی کا زمانہ تھا۔ اس زمانے میں سیاسی حکمرانی کے ساتھ کوئی مثبت تصور موجود نہیں ہوتا تھا۔ مگر بیسویں صدی میں صورت حال مکمل طور پر بدل گئی۔ اب جدید حالات کے تحت دنیا میں ایک نئی صنعت وجود میں آئی، جس کو ٹورسٹ انڈسٹری کہا جاتا ہے۔ ٹورسٹ انڈسٹری ملکوں کے لیے اقتصادیات کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اسپین میں مسلم عہد کی تاریخی یادگاریں بڑی تعداد میں موجود تھیں۔ ان کو دیکھنے کے لیے ساری دنیا کے سیاح وہاں آنے لگے۔ اس کے بعد اسپین کی حکومت کو معلوم ہوا کہ اس کے ملک میں اقتصادیات کا ایک بہت بڑا ذریعہ موجود ہے، اور وہ ہے مسلم عہد حکومت کی تاریخی عمارتیں ۔ اسپین کی حکومت نے ان تمام مقامات کی جدید کاری (renovation) کا کام بڑے پیمانے پر کیا۔ اس کا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page