Al-Risala · July 2017 · page 37

اسپین کا تجربہ

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۷، صفحہ ۳۷

نتیجہ یہ ہوا کہ اسپین دنیا کی سیاحت انڈسٹری کے نقشے میں نمبر دو ملک بن گیا ، اور اس کی اقتصادی سرگرمیوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا حتی کہ ایک پس ماندہ ملک ایک خوشحال ملک بن گیا۔ یہ کرشمہ ری پلاننگ کا کرشمہ تھا۔ اسپین کے رہنماؤں نے وقت کی تبدیلی کو سمجھا ، اور اس کے مطابق از سر نو اپنا نقشہ بنایا۔ اس معاملے میں اقتصادی مفادات کی بنا پر اسپین کی متعصبانہ پالیسی بالکل ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ اب یہ حال ہے کہ اسپین میں دوبارہ مسلمان آباد ہورہے ہیں ، وہاں مسجدیں بنا رہے۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں اسپین کے باشندوں میں اسلام کی اشاعت ہو رہی ہے۔ آج اسپین میں مسلمانوں کو ویلکم (welcome) کیا جا رہا ۔ جب کہ اس سے پہلے مسلمان وہاں غیر مطلوب (unwanted) بن گیے تھے۔

اسپین کی اس ری پلاننگ میں مسلم دنیا کے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اسی طرح کی ری پلاننگ کے مواقع مصر میں ، پاکستان میں ، فلسطین میں ، کشمیر میں ، اور دوسرے مسلم علاقوں میں بڑے پیمانے پر موجود ہیں۔ اگر مسلمان دورِ جدید کے اس ظاہر ہ کو دریافت کر سکیں تو آج کی دنیا ان کے لیے موافق دنیا بن جائے گی، جس کو اب تک وہ ایک ناموافق دنیا سمجھے ہوئے ہیں۔

موجودہ زمانے کے مسلمان اسپین کے نام سے صرف الحمراء ، اور قرطبہ جیسی یادگار کو جانتے ہیں۔ مگر اسپین میں مسلمانوں کے لیے اس سے بھی زیادہ بڑی چیز موجود ہے، اور وہ ہے ایک انقلابی پیغام وقت کے حقائق کو سمجھو، اور اس کے مطابق اپنے عمل کی ری پلاننگ کرو۔ اس کے بعد اچانک تم دیکھو گے کہ ساری دنیا میں ایک نیا دور آ گیا ہے، امیدوں اور مواقع کا دور۔ اسپین کے لیے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کا دروازہ اس وقت کھلا ، جب کہ انھوں نے اپنی منفی سوچ کو بدل دیا۔ جن مسلمانوں کو وہ پہلے اپنا دشمن سمجھتے تھے ، ان کو انھوں نے اپنے دوست کی حیثیت سے دریافت کیا۔ اسی طرح مسلمانوں کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی سوچ کو بدلیں ۔ اگر وہ ایسا کریں تو ان کو معلوم ہوگا کہ آج کی دنیا ان کی اپنی دنیا ہے، وہ کسی اور کی دنیا نہیں۔ آج کی دنیا میں وہ اسلام کی تاریخ کو نئے عنوان سے رقم کر سکتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2017 All issues

Printed page