Al-Risala · January 2017 · page 35

قرآن اور عصرِ جدید

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۷، صفحہ ۳۵

عمومی کلچر کی نہ تھی۔ موجودہ زمانے میں باہمی مفاد زیادہ ضروری ہو چکا ہے ۔ اس کے بغیر نہ جمہوری سیاست دنیا میں چلائی جاسکتی ہے، اور نہ صنعتی تہذیب قائم کی جاسکتی ہے۔

باہمی مفاد کے اس کلچر نے اب اُس چیز کو لوگوں کے لیے ایک مجبوری (compulsion) کا معاملہ بنا دیا ہے، جس کو پہلے صرف اخلاقی چیز سمجھا جاتا تھا۔ آج کی دنیا میں انسان اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ وہ دوسروں کو اپنا دشمن قرار دے۔ ایسا کرنے کی صورت میں نہ جمہوری سیاست چل سکتی ہے، اور نہ صنعتی تہذیب وجود میں آسکتی ہے۔

زمانہ کی اس تبدیلی کی وجہ سے یہ ہوا کہ قدیم طرز کی یہ ثنائیت ایک ناممکن چیز بن گئی۔ اس اضطرار (compulsion) کی بنا پر دورِ جدید میں ایک نئی ثنائیت قائم ہوگئی۔ یہ نئی ثنائیت دوست اور مؤید (supporter) کے اصول پر قائم ہے، نہ کہ قدیم زمانہ کی دوست اور دشمنی کی ثنائیت پر۔ موجودہ زمانہ کے جو مسلمان دوسری قوموں کو اپنا حریف یا دشمن سمجھ کر ان سے نفرت کرتے ہیں یا ان سے متشددانہ لڑائی کر رہے ہیں، وہ مؤید کی اس حقیقت سے بے خبر ہیں۔ وہ اپنے قدیم ذہن کی بنا پر یہ سوچتے ہیں کہ آج بھی دنیا میں وہی یہود، وہی نصاریٰ، وہی کافر اور وہی مشرک ہیں، جو پہلے تھے۔ حالاں کہ اب اصولی طور پر ان تمام گروہوں کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ آج یہ تمام گروہ ایک عمومی کلچر کا حصہ بن کر ایک نئے قسم کے گروہ بن گئے ہیں۔ وہ ایک دوسرے کا مؤید گروہ (supporter) بن گئے ہیں۔ آج ایک انسان کی شناخت (identity) مذہب پر مبنی نہیں ہے، بلکہ تائیدی کلچر پر مبنی ہے۔ وہ تائیدی دور جس کی پیشین گوئی قرآن وحدیث میں کی گئی تھی، وہ اب پچھلے ہزار سالہ تاریخی عمل (historical process) کے ذریعہ دنیا میں عملاً قائم ہو چکا ہے۔ اب مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ مکمل طور پر نفرت اور تشدد کا خاتمہ کردیں۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے سیاسی مفاد یا اقتصادی مفاد کو باہمی تعلقات (mutual interest) کے ذریعہ حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح مسلمانوں کو بھی اپنے ملی منصوبہ کو باہمی تعلقات (mutual interest) پر قائم کرنا چاہیے، نہ کہ باہمی ٹکراؤ کی بنیاد پر۔ قدیم تاریخ میں انسانوں کے درمیان جو ناپسندیدہ صورتِ حال قائم تھی، اس کے حل کے لیے

‹ Previous page Next page › Contents of January 2017 All issues

Printed page